جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ورلڈ کپ میں فیملی کو ساتھ رکھنے کی پابندی،اپنی اہلیہ کو کمرے کی الماری میں چھپا کر رکھا، ثقلین مشتاق کا خوبصورت یاد تازہ کرتے ہوئے انکشاف

datetime 2  جولائی  2020 |

لاہور (این این آئی)سابق پاکستانی کرکٹر ثقلین مشتاق نے انکشاف کیا ہے کہ ورلڈ کپ 1999ء کے دوران فیملی ساتھ رکھنے پر پابندی کے باوجود انہوں نے اپنی بیگم کو ہوٹل روم کی الماری میں چھپا کر اپنے ساتھ رکھا تھا۔ثقلین مشتاق نے حال ہی میں ایک بھارتی میزبان کو انٹرویو کے دوران ماضی کی ایک خوبصورت یاد تازہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 1999ء کے ورلڈ کپ کے دوران اْن کی اہلیہ بھی اْن کے ساتھ ہوٹل روم میں مقیم تھیں،

کرکٹ بورڈ کی جانب سے اچانک یہ فیصلہ کیا گیا کہ کھلاڑیوں کو اپنے ساتھ فیملی رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔بھارتی میزبان رونق کپور کے انسٹا لائیو پروگرام کے دوران ثقلین مشتاق نے نے بتایا کہ اْن کی شادی 1998ء کے دسمبر میں ہوئی تھی اور اْن کی اہلیہ بھی لندن کی ہی رہنے والی ہیں، ثقلین مشتاق نے بتایا کہ اْنہیں کرکٹ بورڈ کا یہ فیصلہ بالکل پسند نہیں آیا تھا اور اْنہوں نے سب سے چْھپ کر پورے ورلڈ کپ کے دوران اپنی بیگم کو اپنے ساتھ ہی ہوٹل روم میں رکھا تھا۔ثقلین مشتاق نے بتایا کہ کرکٹ بورڈ کے اس فیصلے کے بعد اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کچھ جاسوس بھی چھوڑے گئے جو کھلاڑیوں کے روم میں آتے جاتے رہتے تھے اور نظر رکھتے تھے کہ کھلاڑی کیا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی میرے روم میں کرکٹ بورڈ مینیجر یا کوئی اور کھلاڑی ملنے آتا تو میں اپنی اہلیہ کو کمرے کی الماری میں چھپا دیتا تھاثق۔لین مشتاق نے بتایا کہ ایک دن میرے کمرے میں اظہر محمود اور یوسف اس حوالے سے بات کرنے آئے، یہ دونوں غیر شادی شدہ تھے اور اِنہیں شک تھا کہ میری بیوی کمرے میں ہی موجود ہے، اْن کے اصرار پر میں نے اپنی بیوی سے باہر آنے کو کہا اور وہ الماری سے باہر آ گئی، وہ کافی وقت سے اندر الماری میں بند تھی۔  ثقلین مشتاق نے انکشاف کیا ہے کہ ورلڈ کپ 1999ء کے دوران فیملی ساتھ رکھنے پر پابندی کے باوجود انہوں نے اپنی بیگم کو ہوٹل روم کی الماری میں چھپا کر اپنے ساتھ رکھا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…