اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

پی ایس ایل فرنچائزز بینک گارنٹی جمع کرانے سے گریزاں

datetime 4  اکتوبر‬‮  2018 |

کراچی(سپورٹس ڈیسک)پی ایس ایل کی بیشتر فرنچائزز نے نئی ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود بینک گارنٹی جمع نہ کرائی جبکہ اب تک صرف2ہی ٹیموں نے ایسا کیا ہے۔بیشتر پی ایس ایل فرنچائززکی جانب سے2ماہ گزرنے کے باوجود بینک گارنٹی جمع نہ کرانے پر گزشتہ دنوں پی سی بی نے مزید14دن کا وقت دیا تھا جوچند روز قبل ختم ہو گیا۔ذرائع نے بتایا کہ صرف 2 ہی فرنچائزز نے بینک گارنٹی

جمع کرائی ہے ان میں سے بھی ایک نے ابتدائی مقررہ تاریخ میں ہی ایسا کر لیا تھا، چند روز قبل جب میٹنگ میں یہ بات سامنے آئی کہ دیگر نے بینک گارنٹی نہیں دی تو مذکورہ ٹیم نے بھی اسے واپس مانگ لیا تھا، بورڈ نے دیگر فرنچائزز کو مزید وقت دیا مگر بیشتر نے اسے سنجیدگی سے نہ لیا،چیئرمین پی سی بی کی تبدیلی کے سبب پی ایس ایل کے معاملات ابھی اتنے اچھے انداز میں نہیں چل رہے ہیں، نئے سربراہ کی دیگر ترجیحات اور وہ انہی میں مصروف ہیں۔واضح رہے کہ فرنچائزز کو ہر ایونٹ سے 6ماہ قبل سالانہ فیس کے مساوی رقم بطور بینک گارنٹی بورڈ کے پاس جمع کرانا ہوتی ہے، رواں ماہ کے آخر میں انھیں انوائس جاری ہوگی جس کے بعد15نومبر تک فیس ادا کرنے کا وقت دیا جائے گا،مقررہ وقت میں جس نے ادائیگی نہ کی تو اس کی بینک گارنٹی کیش کرا لی جائے گی، سیزن 2میں ایک ٹیم کے ساتھ ایسا ہو بھی چکا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ گزشتہ ماہ میٹنگ میں فرنچائزز نے بورڈ سے حسابات مانگے تھے اور تاخیر کی وجہ اسی کو قرار دیا تھا،بعض کو اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ پنجاب میں رجسٹرڈ نہ ہونے کے باوجود ان کی کمپنی کو ہر سال صوبائی حکومت کو خطیر رقم بطور ٹیکس دینا پڑتی ہے،واضح رہے کہ ہر فرنچائز کو16فیصد سیلز ٹیکس اور10فیصد ودہولڈنگ ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔اس بار پی سی بی نے کہا کہ ٹیکس کی جو رقم بنتی ہے اس کا چیک دے دیں، ٹیکس معاف کرانے کی کوشش کی جائے گی، کامیابی پر چیک واپس کر دیں گے۔دریں اثنا رابطے پر بورڈ کے ترجمان نے کہا کہ اب تک 2 سے3 فرنچائزز نے بینک گارنٹی جمع کرا دی ہے، دیگر بھی جلد ایسا کر لیں گے، یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، انھوں نے اس سوال کا کوئی جواب نہ دیا کہ بار بار کی ڈیڈ لائنز کے باوجود کیوں بورڈ کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…