اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

پاکستان ٹیم اب بھی ایشیا کپ جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے، مکی آرتھر

datetime 25  ستمبر‬‮  2018 |

دبئی(سپورٹس ڈیسک)قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کہاہے کہ پاکستان ٹیم اب بھی ایشیا کپ جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ٹیم بھارت سے بدترین شکست کے بعد بنگلہ دیش کو ہرا کر دباؤ سے نکلنا چاہتی ہے۔ایک انٹرویومیں مکی آرتھر نے کہاکہ کھلاڑی (آج)بدھ کو بنگلادیش کے خلاف سپر فور مرحلے کا آخری میچ جیت کر فائنل میں بھارت کو ہرانا چاہتے ہیں تاکہ دو بڑی شکستوں کا حساب برابر ہو۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ نے تھوڑی سی ہچکچاھٹ کے بعد تسلیم کیا کہ بھارت کے ہاتھوں دبئی میں نو وکٹوں سے شرم ناک شکست ان کے کوچنگ دور میں گرین شرٹس کی بدترین کارکردگی تھی۔یاد رہے کہ مکی آرتھر کو 2016 میں وقار یونس کی جگہ پاکستان کی کوچنگ سونپی گئی تھی اور ان کی کوچنگ میں پاکستان نے آئی سی سی چیمپنز ٹرافی جیتی لیکن ون ڈے میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی زیادہ اچھی نہیں رہی۔مکی آرتھر نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کیا کہ بھارت کے خلاف میچ میں پاکستانی ٹیم کا سوئچ آف تھا انہوں نے کہا سوئچ آف کہنا سخت جملہ ہے، بیٹنگ کے دوران ہم بھارتی بولنگ کو دباؤ میں نہیں لاسکے، بولنگ میں بھارت کے خلاف جلدی وکٹ لینے کی ضرورت تھی لیکن فیلڈنگ نے مواقع گنوا دیئے۔کوچ نے کہا کہ اگر ہم بھارت کی جلد وکٹ لے لیتے تو صورتحال مختلف ہوتی، ہمیں حقائق دیکھنے چاہیں کہ بھارت نے ہمیں مکمل آؤٹ کلاس کردیا، بھارت کی اچھی ٹیم نے ہمیں اچھا کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔مکی آرتھر نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم نوجوان ہے جس میں شعیب ملک نے سب سے زیادہ 270 ون ڈے کھیلے ہیں، سرفراز احمد نے 94 اور محمد عامر نے 46 ون ڈے کھیلے ہیں، ان کے علاوہ اکثریت نوجوان اور کم تجربہ کار کھلاڑی ہیں۔ہیڈ کوچ کے مطابق یہ ٹیم تشکیل نو کے مرحلے سے گزر رہی ہے اس بڑی ہار نے ان کھلاڑیوں کے اعتماد میں یقیناًکمی کی ہوگی، ہمیں ڈریسنگ روم میں کچھ حقائق دیکھنے ہوں گے۔

کھلاڑیوں میں اعتماد کی کمی کو بیٹنگ میں ناکامی کی بڑی وجہ قرار دی جاسکتی ہے۔مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بیٹنگ میں اعتماد کا شدید بحران ہے اور ڈریسنگ روم میں موجود کھلاڑیوں کو اپنی ناکامی کا ڈر رہتا ہے، تاہم یہاں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم بطور ٹیم کہاں کھڑے ہیں۔کھلاڑیوں میں اعتماد میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے فخر زمان کی مثال دی اور کہا کہ جب

بھارتی باؤلنگ نے ان پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی تو وہ جارحانہ آغاز دینے میں ناکام ہوگئے اور یہی وجہ ہے کہ پاور پلے کے اختتام پر 31 گیندوں پر ان کا اسکور صرف 12 تھا۔کوچ مکی آرتھر کیلئے دوسری تشویش بولنگ ڈیپارٹمنٹ ہے جو، ان کے مطابق، اپنے منصوبوں سے ہی ہٹ رہا ہے، ہماری بولنگ میں تحمل نہیں تھا، یہ بہت مایوس کن تھی اور اسی وجہ سے ہم گھبراہٹ کا شکار ہوگئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…