اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

جیت کا اعتماد آئندہ سیریز میں فائدہ دیگا ٗ فخر زمان کو ڈبل سنجری یاد رہے گی:رمیز راجہ

datetime 27  جولائی  2018 |

لاہور (این این آئی) سابق کپتان اور کرکٹ کمنٹیٹر رمیز راجہ نے کہا ہے کہ جیت کا اعتماد آئندہ سیریز میں فائدہ دیگا ٗ فخر زمان کو ڈبل سنجری یاد رہے گی ۔بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویومیں رمیز راجہ نے کہا کہ فخرزمان ایک بڑا فرق بن کر سامنے آئے ہیں ٗفخرزمان نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے بڑی ٹیموں کی معیاری بولنگ کو بھی غیرموثر بنادیا ہے ٗ درحقیقت وہ اپنی غیرمعمولی صلاحیتوں

کی وجہ سے پاکستان اور دوسری ٹیموں میں ایک واضح فرق بن کر سامنے آئے ہیں ٗڈبل سنچری چاہے آپ کلب میچ میں بنائیں آسان کام نہیں ہے۔ فخرزمان اس سیریز میں لاجواب کھیلے۔رمیز راجہ کا اپنے ٹویٹ کے بارے میں کہنا ہے کہ وہ اس کے ذریعے پاکستانی کھلاڑیوں کو کسی بڑی کارکردگی کیلئے تیار کرنا چاہتے تھے۔شروع میں مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس ٹیم کیلئے صرف جیتنا ضروری ہے اور ہونا بھی چاہیے تھا تاہم جب آپ اور آپ کے حریف میں بہت واضح فرق ہو تو پھر آپ کوئی ورلڈ ریکارڈ پرفارمنس دکھا کر ہی شہ سرخیوں میں جگہ بناسکتے ہیں اور یہی بات میں نیاپنے ٹویٹ میں اجاگر کرنے کی کوشش کی تھی کہ اگر کوئی ڈبل سنچری یا عالمی ریکارڈ پارٹنرشپ نہیں بنتی تو پھر مزا نہیں آئیگا۔رمیز راجہ نے کہا کہ زمبابوے کے خلاف حاصل کردہ اعتماد ٹیم کو آنے والے میچوں میں کام آئے گا۔انہوں نے کہاکہ یہ سیریز پاکستانی ٹیم کے لیے تیاری کے نقطہ نظر سے ٹھیک تھی۔ اس سے کھلاڑیوں کو جو اعتماد ملا ہے وہ اس سے آنے والی سیریز میں فائدہ اٹھائیں گے۔ اگلی سیریز کھیلتے وقت فخرزمان کو اپنی ڈبل سنچری یاد رہے گی ٗ امام الحق کو اپنی ورلڈ ریکارڈ پارٹنرشپ اور سنچریاں یاد رہیں گی تاہم پاکستانی ٹیم کو یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ہوگی کہ اچھی اور بڑی ٹیموں کے خلاف اسے مزید کتنی پختگی کی ضرورت ہے۔رمیز راجہ کے مطابق آصف علی کی شکل میں ہمیں ایک قابل اعتماد بیٹسمین ملا ہے۔انہوں نے کہا کہ آصف علی ایک اچھی دریافت ہیں اگر ایک اچھی اوپننگ پارٹنرشپ قائم ہوجائے تو پھر آصف علی کو تیسرے نمبر پر بھی کھلایا جاسکتا ہے۔ نوجوان کرکٹرز کے آنے سے پاکستانی ٹیم کی محدود اوورز کی کرکٹ میں شکل بدل گئی ہے نوجوان کرکٹرز نے اپنی صلاحیتوں سے سفید گیند کی کرکٹ میں ہمارا ڈی این اے بدل دیا ہے۔ ہر کھلاڑی لاجواب پرفارمنس دے رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…