منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

پی ایس ایل پر منڈلاتا خطرہ دور، فرنچائز اور بورڈ میں معاملات طے پا گئے

datetime 23  جنوری‬‮  2018 |

لاہور (این این آئی)فرنچائز کی جانب سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو واجبات کی جلد از جلد ادائیگی کی یقین دہانی کے بعد 22 فروری سے متحدہ عرب امارات میں شروع ہونے والے پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد ممکنہ نظر آنے لگا تاہم فرنچائز نے مطالبہ کیا کہ ایک مشترکہ فورم تشکیل دیا جائے تاکہ پی سی بی اور فرنچائز ایک دوسرے کے تحفظات سن کر مستقبل میں اس قسم کی غلط فہمی سے بچ سکیں۔

پی سی بی کے ایک آفیشل نے بتایا کہ تمام فرنچائزوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور امید ہے کہ وہ جلد اپنے واجبات ادا کر دیں گی۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستان سپر لیگ کی چھ میں سے پانچ فرنچائزیں مکمل یا جزوی طور پر پی سی بی کی ڈیفالٹ ہو گئی تھیں اور 15 نومبر کی ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود وہ اپنے واجبات کی ادائیگی میں ناکام رہیں۔ پی سی بی نے ڈیفالٹرز کے خلاف سخت اقدام کرنے کا فیصلہ کیا لیکن فرنچائز کی جانب سے رقم کی ادائیگی کی یقین دہانی کے بعد یہ بحران ختم ہوتا نظر آ رہا ہے۔دوسری جانب ایک فرنچائز مالک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فرنچائزوں کو کچھ تحفظات ہیں جس کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی۔فرنچائز مالک نے کہا کہ اگر کوئی ایسا فورم دستیاب ہوتا جہاں پی سی بی اور فرنچائزیں ایک دوسرے کے مسائل سن سکتے تو یہ موجودہ صورتحال کبھی پیدا نہ ہوتی۔انہوں نے انکشاف کیا کہ پی سی بی کی جانب سے گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات میں منعقدہ ٹی10 لیگ کے منتظمین کو پاکستانی کھلاڑیوں کو لے جانے کی اجازت دینے کے فیصلے سے فرنچائز مالکان خوش نہیں تھے لیکن بورڈ نے فرنچائز کے موقف کو نہیں سنا۔انہوں نے شکایت کی کہ پی ایس ایل میں فرنچائز کی جانب سے لاکھوں روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود انہیں ان اسٹیڈیم کے استعمال کی اجازت نہیں جن پر پی سی بی کا کنٹرول ہے۔

فرنچائز کے مالک کا کہنا تھا کہ اب کیونکہ پی ایس ایل پاکستان کا سب سے کامیاب برانڈ بن چکا ہے تو یہ پی سی بی سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی ذمے داری ہے کہ وہ ہر قسم کے غیرضروری تنازعات اور منفی چیزوں سے اسے محفوظ رکھیں اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب فرنچائز اور پی سی بی کے درمیان مستقل رابطہ ہو۔صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے تو پی سی بی سے بھی ایک غلطی سرزد ہوئی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے فرنچائز کی جانب سے تمام واجبات کی وصولی سے دو ماہ قبل ہی کھلاڑیوں کے انتخاب کا ڈرافٹ کا عمل مکمل کر لیا۔ اگر بورڈ واجبات کی وصولی اور فرنچائزوں کے تحفظات دور کرنے کے بعد کھلاڑیوں کے ڈرافٹ کا عمل شروع کرتا تو تیسرے ایڈیشن سے قبل ان مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…