پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

’’میں عمران کی نصیحت ساری زندگی نہیں بھولوں گا‘‘۔ سارو گنگولی کو بھارتی ٹیم کی نہ صرف کپتانی سے ہٹا دیا گیا بلکہ ٹیم سے بھی نکال دیا گیا، اس وقت عمران خان نے گنگولی کو ایسی نصیحت کی جس نے ان کا کیرئیر revive کیا

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سارو گنگولی نے 2005 میں نہ صرف کپتانی کھوئی بلکہ ان کی ٹیم میں جگہ بھی نہ بن سکی۔ اس کے بعد ان کے کوچ کے ساتھ متعدد تنازعات بھی رہے، سارو گنگولی نے اس سخت مرحلے جب وہ ٹیم سے باہر تھے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے سابق کپتان عمران خان سے متاثر تھے اور ان کی وجہ سے انہیں حوصلہ ملا۔ سارو گنگولی نے کہا کہ 1995سے 2006ء کے ابتدائی دنوں تک گراف ٹھیک رہا،

اس دوران میں نے کوئی سیریز نہیں چھوڑی، انہوں نے کہا کہ میں گزشتہ چھ سالوں سے بھارتی ٹیم کا کپتان تھا اور دنیا میرے قدموں میں تھی اور اچانک ہی میری ٹیم میں جگہ بھی نہ رہی۔ جیسا کہ کرکٹ کی دنیا میں ہوتا ہے کہ ایک کیپٹن کے بعد دوسرا کیپٹن آتا ہے۔ جیسا کہ آپ دھونی کو بھارت کا کپتان دیکھتے تھے مگر اب ان کی جگہ ویرات کوہلی نے لے لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران وہ ایک دفعہ لاہور میں عمران خان سے ملے، عمران خان انڈین کرکٹ کے پیچھے تھے، 45 سالہ سارو گنگولی نے کہا کہ میرے اور عمران خان کے درمیان تعلقات بہت اچھے تھے، ہم ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے تھے، انہوں نے مجھے ایک بات کہی جو مجھے زندگی بھر یاد رہے گی انہوں نے کہا کہ جب آپ اونچا اڑ رہے ہوتے ہیں اس دوران آپ کالے بادل دیکھتے ہیں، ان کالے بادلوں میں سے آپ اونچا اڑنے کے لیے راستہ نکالتے ہیں۔ میں نے عمران خان کے یہ الفاظ اس مشکل دور میں یاد رکھے اور انہی الفاظ کی وجہ سے میں نے ٹیم میں دوبارہ جگہ بنائی ۔انہوں نے کہا کہ جب دسمبر 2005ء میں مجھے ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا تو اس کے بعد میں نے نومبر 2006ء میں ٹیم میں دوبارہ جگہ بنائی، سارو گنگولی 2008ء میں ورلڈ کرکٹ سے ریٹائر ہوئے، اس وقت انہوں نے اپنے ہوم گراؤنڈ پر ہی آسٹریلیا سے ٹیسٹ سیریز کھیلی جو ان کے کیرئیر کی آخری ٹیسٹ سیریز تھی۔

موضوعات:



کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…