جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ پی سی بی کی عزت درکار نہیں مداحوں کا پیار کافی ہے

datetime 14  اپریل‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(آئی این پی) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ پی سی بی کی عزت درکار نہیں مداحوں کا پیار کافی ہے، پی سی بی کو یاد رکھنا چاہئے کہ کھلاڑیوں کی وجہ سے ہی کرکٹ بورڈ بھی ہے، پی سی بی نے یونس اور مصباح کو آخری سیریز دیکر اچھی روایت قائم کی، پاور ہٹرز کی تلاش کیلئے سندھ میں کیمپ لگاؤں گا، کرکٹ تیز ہو گئی ہے ہمیں وقت کے ساتھ چلنا ہو گا،میرا سیاست میں آنے کا کوئی

ارادہ نہیں سیاستدانوں کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے اور میں یہ کام اپنی فاؤنڈیشن کے ذریعے کر رہا ہوں اور یہی میری جماعت ہے۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیم نے اچھا پرفارم کیا، بہترین کپتانی پر سرفراز احمد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میرا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ ہے نہ ہی کسی سیاسی پارٹی سے تعلق ہے، سیاستدانوں کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے اور میں یہ کام اپنی فاؤنڈیشن کے ذریعے کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ تیز ہو گئی ہے ہمیں وقت کے ساتھ چلنا ہو گا، نئے ٹیلنٹ کو آگے لانا چاہیئے، پاور ہٹرز کی تلاش کیلئے سندھ میں کیمپ لگاؤں گا۔الوداعی میچ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر شاہد آفریدی نے کہا کہ مجھے پی سی بی کی عزت کی ضرورت نہیں، مداحوں کی جانب سے ملنے والا پیار میرے لئے کافی ہے۔ پی سی بی کو یاد رکھنا چاہئے کہ کھلاڑیوں کی وجہ سے ہی کرکٹ بورڈ بھی ہے ، میں نے کھلاڑیوں کو اچھے انداز میں رخصت کرنے کا ٹرینڈ سیٹ کرنے کی کوشش کی، مصباح اور یونس نے بہترین فیصلہ کیا اور ان کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں۔ سینئر کرکٹرز کو اچھے انداز میں رخصت کیا جانا خوش آئند ہے۔ پی سی بی نے یونس اور مصباح کو آخری سیریز دیکر اچھی روایت قائم کی۔ میرے موقع پر پی سی بی نے ایسا نہیں کیا جس کا مجھے افسوس بھی نہیں۔ مجھے نہ کوئی الوداعی میچ چاہیے نہ ہی کوئی سیریز۔انہوں نے کہا جو پیار ملا عوام سے ملا پی سی بی سے کوئی امید نہیں۔ موجودہ ٹیم کو ماڈرن کرکٹ کھیلنے کے انداز اپنانے ہوں گے۔ کیونکہ بڑی ٹیموں کیخلاف اچھی کپتانی کرنیکی ضرورت ہو گی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…