منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

میانوالی جیسے نظر انداز علاقے میں رہتے ہوئے کبھی سوچا نہ تھا ایک دن قومی ٹیم کا کامیاب کپتان بن جاؤں گا‘ مصباح الحق

datetime 10  اپریل‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی) قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے کہا ہے کہ میانوالی جیسے دور دراز اور نظر انداز کیے جانے والے علاقے میں رہتے ہوئے کبھی سوچا بھی نہیں تھاکہ وہ ایک دن پاکستان کے سب سے کامیاب کپتان بن جائیں گے،بھارت کے خلاف موہالی ورلڈ کپ سیمی فائنل کیریئر کا سب سے مایوس کن جبکہ عالمی نمبر ایک

ٹیم بننے پر آئی سی سی گرز اٹھانا سب سے یادگار لمحات ہیں۔ڈی ڈبلیو کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے عظیم کرکٹر مصباح الحق کا کہنا تھا کہ مصباح سے پہلے پاکستان کے زیادہ تر کپتان کراچی اور لاہورجیسے بڑے شہروں سے تعلق رکھتے تھے اور انہیں کسی نہ کسی انداز میں سیاسی پشت پناہی بھی حاصل رہی ہے۔ البتہ میں نے آگے بڑھنے کے لیے کبھی سہاروں پر یقین نہیں رکھا نہ کبھی کپتانی کے پیچھے بھاگا۔ سچی لگن اور مسلسل محنت سے راستے خود بخود کھلتے چلے گئے۔ میرا یقین ہے کہ اگر آپ اچھے پیشہ ور کھلاڑی ہیں تو کارکردگی ایک دن سب رکاوٹوں کو دور کر دے گی۔انہوں نے کہا کہ ہر روز بہتر سے بہتر ہونے کی کوشش اور نظم ضبط کی پاسداری ہی میری کامیابیوں کا راز ہے۔2012 میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی انٹرنیشل کرکٹ سے جبری ریٹائرمنٹ کو مصباح نے افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں اس وقت مکمل فٹ اور فارم میں تھا اور کھیلنا چاہتا تھا لیکن کرکٹ بورڈ کا خیال

تھا کہ ٹی ٹونٹی صرف نوجوانوں کا کھیل ہے اور یوں مجھے ایک ایسے فارمیٹ سے الگ ہونا پڑا جو ٹیسٹ کرکٹ جیسا مشکل فارمیٹ کھیلتے ہوئے میرے لیے زیادہ آسان تھا لیکن کئی بار آپ کو مستقبل کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے۔اس سوال کہ پاکستانی تاریخ کا بہترین کپتان کون ہے؟ اس کے لیے

مصباح الحق کا موازنہ عمران خان اور اے ایچ کاردار سے کیا جا رہا ہے کا جواب دیتے ہوئے مصباح الحق نے کہا کہ اے ایچ کاردار نے پاکستان کی دنیائے کرکٹ میں پہچان کرائی اور عمران خان ان کے رول ماڈل رہے ہیں،ان کے ساتھ میرا نام آنا ہی میرے لیے قابل فخر ہے۔مصباح نے بتایا کہ ان کا

فیصلہ سن کر سابق ٹیسٹ کرکٹرز اور پرستاروں کی جانب سے جو رد عمل آیا ہے اس پر وہ ان کے بے حد ممنون ہیں،سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر ایسے عوامی جذبات دیکھ کر بہت خوشی اور طمانیت کا احساس ہوا۔مصباح الحق نے مزید کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ چھوڑنے کا فیصلہ انہوں نے 2016 میں ہی کر

لیا تھا صرف ٹیم کی موسم سرما میں مشکل دوروں کی وجہ سے اسے سامنے نہیں لایا البتہ کرکٹ کھیلنے سے انکا دل ابھی بھرا نہیں۔ حال ہی میں فیصل آباد کو گریڈ IIکا چمپئن بنوایا ہے اور یہ ٹورنامنٹ کھیل کر وہ اتنے ہی محظوظ ہوئے جتنے کوئی بین الاقوامی میچ کھیل کر ہوتے ہیں۔ یہ ٹورنامنٹ جیت کر

فیصل آباد کی ٹیم کو دوبارہ فرسٹ کلاس سٹیٹس مل گیا۔میں چاہتا ہوں کہ نئے لڑکوں کے ساتھ رہ کر ابھی کچھ عرصہ کھیلتا رہوں تاکہ وہ مجھ سے سیکھ سکیں۔ میں فیصل آباد اور سرگودھا میں نوجوان کھلاڑیوں کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہوں اس لیے مستقبل میں مزید کیا کرنا ہے اس بارے منصوبہ بندی کر رہا ہوں۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…