جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

کوئی شرم ہوتی ہے؟مصباح الحق کے صبر کا پیمانہ لبریز ،پی سی بی پربجلیاں گرادیں

datetime 1  فروری‬‮  2017 |

فیصل آباد(آئی این پی)قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا آسٹریلیا سے سیریز ہارنے پر قومی ٹیم کو شدید تنقید کا نشانہ بنائے جانے پر مصباح الحق کا کہنا تھا کہ کوئی شرم ہوتی ہے چھ سال اچھا کھیلو توکوئی نام بھی نہیں لیتاچار میچ ہار جا ؤتو آسمان سر پر اٹھالیا جاتا ہے، لوگوں کے کہنے پر ہی میں نے کرکٹ میں کم بیک کیا اب مجھے شرم کرنے کا کہا جا رہا ہے،

پی سی بی جسے چاہے کپتان بنائے میں کسی کا نام نہیں دوں گا، جب تک مسائل حل نہیں ہوتے کپتان بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصباح الحق کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ٹیم ملک سے باہر جا کر کھیلے تو اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے انڈیا بھی ہوم پچز پر کھیل کر ہی نمبرون ٹیم بنی ہے آسٹریلیا سے کھیلے جانے والے میچوں میں ٹیم نے سخت محنت کی اور اور اچھا کھیلنے کی کوشش کی بدقسمتی سے ہم اچھا نہ کھیل سکے۔میڈیا سے بات چیت کے دوران ٹیسٹ کپتان نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے بھی ہر سال ساتھ افریقہ اور آسٹریلیا کی تیز پچز پر سیریز کھلائی جانی چاہیے تاکہ کھلاڑیوں کو تیز پچز پر کھیلنے کا تجربہ مل سکے ،مصباح الحق کا مزید کہنا تھا کہ جب کھلاڑی چھ یا سات سال بعد نئی جگہ جا کر کھیلے گے تو صورت حال مختلف ہونے کے باعث انہیں نئی جگہ پرفارم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ مصباح الحق نے کہا کہ لوگوں کے کہنے پر ہی میں نے کرکٹ میں کم بیک کیا لیکن اب مجھے شرم کرنے کا کہا جا رہا ہے۔قومی ٹیم کے کپتان کی تبدیلی کے حوالے سے مصباح الحق نے کہا کہ پی سی بی اپنی مرضی سے ہی کسی کو بھی کپتان منتخب کریگی میں اس حوالے سے کوئی نام نہیں دوں گا، جب تک مسائل حل نہیں ہوتے کپتان بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ مصباح الحق کا مزید کہنا تھا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کا بھی اپنا ہی مزہ ہے ملک سے انڈر 16 اور انڈر 19 کی صورت میں نیا ٹیلنٹ سامنے آ رہا ہے مگر ان کی قابلیتوں سے پورا فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…