اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

کوئی شرم ہوتی ہے؟مصباح الحق کے صبر کا پیمانہ لبریز ،پی سی بی پربجلیاں گرادیں

datetime 1  فروری‬‮  2017 |

فیصل آباد(آئی این پی)قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا آسٹریلیا سے سیریز ہارنے پر قومی ٹیم کو شدید تنقید کا نشانہ بنائے جانے پر مصباح الحق کا کہنا تھا کہ کوئی شرم ہوتی ہے چھ سال اچھا کھیلو توکوئی نام بھی نہیں لیتاچار میچ ہار جا ؤتو آسمان سر پر اٹھالیا جاتا ہے، لوگوں کے کہنے پر ہی میں نے کرکٹ میں کم بیک کیا اب مجھے شرم کرنے کا کہا جا رہا ہے،

پی سی بی جسے چاہے کپتان بنائے میں کسی کا نام نہیں دوں گا، جب تک مسائل حل نہیں ہوتے کپتان بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصباح الحق کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ٹیم ملک سے باہر جا کر کھیلے تو اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے انڈیا بھی ہوم پچز پر کھیل کر ہی نمبرون ٹیم بنی ہے آسٹریلیا سے کھیلے جانے والے میچوں میں ٹیم نے سخت محنت کی اور اور اچھا کھیلنے کی کوشش کی بدقسمتی سے ہم اچھا نہ کھیل سکے۔میڈیا سے بات چیت کے دوران ٹیسٹ کپتان نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے بھی ہر سال ساتھ افریقہ اور آسٹریلیا کی تیز پچز پر سیریز کھلائی جانی چاہیے تاکہ کھلاڑیوں کو تیز پچز پر کھیلنے کا تجربہ مل سکے ،مصباح الحق کا مزید کہنا تھا کہ جب کھلاڑی چھ یا سات سال بعد نئی جگہ جا کر کھیلے گے تو صورت حال مختلف ہونے کے باعث انہیں نئی جگہ پرفارم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ مصباح الحق نے کہا کہ لوگوں کے کہنے پر ہی میں نے کرکٹ میں کم بیک کیا لیکن اب مجھے شرم کرنے کا کہا جا رہا ہے۔قومی ٹیم کے کپتان کی تبدیلی کے حوالے سے مصباح الحق نے کہا کہ پی سی بی اپنی مرضی سے ہی کسی کو بھی کپتان منتخب کریگی میں اس حوالے سے کوئی نام نہیں دوں گا، جب تک مسائل حل نہیں ہوتے کپتان بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ مصباح الحق کا مزید کہنا تھا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کا بھی اپنا ہی مزہ ہے ملک سے انڈر 16 اور انڈر 19 کی صورت میں نیا ٹیلنٹ سامنے آ رہا ہے مگر ان کی قابلیتوں سے پورا فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…