جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

جیتنا ہے تو تیسرے میچ میں یہ کام ضرور کرنا،رمیز راجہ نے قومی ٹیم کو اہم مشورہ دیدیا

datetime 16  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی) سابق کرکٹر اور کمنٹیٹر رمیز راجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم پرتھ میں بھی آسٹریلیا کے خلاف سپن باؤلر کے ساتھ اٹیک کرے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رمیز راجہ نے کہا کہ آسٹریلیا کیخلاف دوسرے ون ڈے میچ میں محمد حفیظ نے کپتانی بہت اچھی کی اور باؤلنگ بھی بہت زبردست ہوئی کیونکہ آسٹریلیا کو ان کے ہوم گراؤنڈ میں ہی آل آؤٹ کر دیا جو زبردست بات ہے۔ جنید خان اور عماد وسیم کی وجہ سے پاکستان کی باڈی لینگوئج بہت بہتر ہوئی ہے ٗ یہ وہ آسٹریلیا کی ٹیم نہیں جسے ہرایا نہیں جا سکتا، اس لئے یہ سیریز جیتنے کا بہت اچھا موقع ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پہلا ون ڈے ہارنے کے بعد قومی کرکٹ ٹیم نے جس طرح کم بیک کیا ہے یہ بہت ہی زبردست بات ہے تاہم ضرورت سے زیادہ پراعتماد نا ہوں اور اپنی خامیوں پر قابو پا کر تیسرے میچ کیلئے میدان میں اتریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پاکستان کی مودجودہ بیٹنگ لائن کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سوچ ہونی چاہئے کہ جو بلے باز فارم میں ہے وہ میچ ختم کرے کیونکہ بعد میں آنے والے بلے باز کیساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔تیسرے ون ڈے میں پاکستان کی حکمت عملی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رمیز راجہ نے کہا کہ ٹیم گھبرائے مت اور میلبورن کی طرح پرتھ میں بھی سپن باؤلرز کے ذریعے اٹیک کرے۔ انہوں نے کہا کہ حالانکہ پرتھ کی وکٹ فاسٹ باؤلرز کیلئے مددگار سمجھی جاتی ہے لیکن میرے خیال میں محمد حفیظ، شعیب ملک اور عماد وسیم جس طرح باؤلنگ کر سکتے ہیں، آسٹریلوی بلے بازوں کو دباؤ میں لایا جا سکتا ہے کیونکہ آسٹریلیا سپن باؤلنگ کے خلاف بہت خراب پرفارمنس دے رہا ہے ۔بلے بازوں کو مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پرتھ میں گیند باؤنس کرتا ہے اس لئے بیک فٹ پر اور کٹ شاٹ زیادہ کھیلنا پڑتی ہے اور اس کیلئے صرف ایڈجسٹ ہونے کی ضرورت ہے۔ بلے باز اکثر وکٹ کی جانب آنے والی گیند کو بھی ویل لیفٹ کر دیتے ہیں کیونکہ زیادہ باؤنس ہونے کے باعث گیند وکٹ کے اوپر سے گزر جاتا ہے اس لئے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور صرف مثبت ذہن کے ساتھ میدان میں اترنے کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…