جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ڈبلیو ڈبلیو ای کی تاریخ میں پہلی بار پاکستانی ریسلر کی دھماکے دار انٹری ۔۔ مد مقابل کون سا مشہور ریسلر آیا اور مقابلے کا نتیجہ کیا نکلا ؟

datetime 15  دسمبر‬‮  2016 |

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈبلیو ڈبلیو ای کی تاریخ میں پہلی بار ایک پاکستانی ریسلر کو رنگ میں ایکشن میں آنے کا موقع ملا تاہم ان کا پہلا میچ بلانتیجہ ختم ہوگیا۔پاکستانی نژاد امریکی ریسلر مصطفیٰ علی ڈبلیو ڈبلیو ای کے ایک نئے ریسلنگ پروگرام 205 لائیو کا حصہ ہیں جس میں ان کا پہلا میچ گزشتہ شب دیکھنے میں آیا۔اپنے ڈبلیو ڈبلیو ای ڈیبیو پر مصطفیٰ علی کا مقابلہ پیورٹو ریکو کے لینسی ڈو راڈو سے ہوا۔یہ دونوں ریسلرز کا ڈبلیو ڈبلیو ای کے اس پروگرام میں ڈیبیو تھا جس میں دونوں نے زبردست فائٹ کی تاہم آخر میں یہ میچ ڈبل کائونٹ آئوٹ پر بلا نتیجہ ختم ہوا۔یعنی دونوں ریسلرز رنگ کے باہر تھے جب ریفری نے 10 تک گنتی گنی جس کے بعد میچ بے نتیجہ ختم کردیا گیا۔شکاگو میں پیدا ہونے والے مصطفیٰ علی پاکستان سے تعلق رکھنے والے پہلے ریسلر ہیں جو ڈبلیو ڈبلیو ای کا حصہ بنے اور انہیں اس کمپنی کے نئے شو 205 لائیو کے لیے کنٹریکٹ دیا گیا
یہ نیا شو 29 نومبر کو شروع ہوا جس میں شرکت کرنے والے تمام ریسلرز کروزر ویٹ کیٹیگری سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا وزن بھی 205 پونڈز سے زیادہ نہیں ہوسکتا۔ڈبلیو ڈبلیو ای کے رواں سال ہونے والے ایک ریسلنگ ٹورنامنٹ کروزر ویٹ کلاسیک کے ذریعے مصطفیٰ علی کی اس کمپنی میں انٹری ہوئی تھی۔یہ 32 افراد کا ٹورنامنٹ تھا جس میں دنیا بھر کے ریسلرز کو شریک کیا گیا ہے جن میں سے ایک مصطفیٰ علی بھی تھے، دلچسپ بات یہ ہے کہ اصل میں وہ اس شو کا حصہ نہیں تھے مگر برازیل سے تعلق رکھنے والے ایک ریسلر کو ویزہ مسائل کا سامنا کرنا پڑا جس کی جگہ پاکستانی نڑاد ریسلر کو ملی
مصطفیٰ علی کو اس ٹورنامنٹ کے پہلے راؤنڈ میں ہی شکست ہوگئی تھی اور ڈبلیو ڈبلیو ای کا حصہ نہیں بن سکے تھے۔مصطفیٰ علی ریسلنگ کی دنیا کے لیے نئے نہیں بلکہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک امریکا بھر میں مقابلوں میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ایک انٹرویو کے دوران مصطفیٰ علی نے بتایا ” ڈبلیو ڈبلیو ای میں لڑنا میرے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے، یہ وہ خواب ہے جس کے ساتھ میں بڑا ہوا، اس کے لیے میں 13 برسوں سے کوشش کررہا تھا، اسی کے لیے میری ہڈیاں ٹوٹیں، متعدد تقریبات کو فراموش کیا، ڈبلیو ڈبلیو ای کے رنگ میں کھڑے ہونے کے لمحے کے جذبات بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں”۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…