لاہور ( نیوزڈیسک) پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہر یار خان نے کہا ہے کہ میٹنگز میں مصروفیات کی وجہ سے وقار یونس سے ملاقات نہیں ہو سکی ، آج جمعرات کو ان سے ملاقات ہو گی ، وقار کی طرف سے جمع کرائی گئی رپورٹ لیک نہیں ہوئی اگر ایسا ہوا ہے تو انکوائری کرائی جائے گی۔ وقار یونس کی پریس کانفرنس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہر یار خان نے کہا کہ ٹی وی پر وقار یونس کی باتیں سنی ہیں ۔ وقار یونس سے کمیٹی کے اجلاس سے پہلے ہی مل چکا ہوں۔ غیر جانبدار رہنے کی وجہ سے وقار یونس سے نہیں ملا۔ لیکن گزشتہ روز جب وقار کا فون آیا تو اس وقت اہم اجلاس میں بیٹھا ہوا تھے اس کے فوری بعد ایک اور میٹنگ تھی ۔ وقار یونس نے خود کہا کہ فون پر بات کرنا چاہتے ہیں ۔ وقار یونس سے آج جمعرات کو ملاقات ہو گی ۔ انہوں نے رپورٹ لیک ہونے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ پورٹ لیک نہیں ہو ئی۔اگر ہوئی ہے توتحقیقات ہوں گی۔وقار سے کہا کہ رپورٹ لیک ہونے پر تحقیقاتی کمیٹی بنا دیتے ہیں،ہیڈ کوچ کو پریشانی ختم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے ۔شہریارخان نے مزید کہا کہ وقار یونس کی میڈیا سے باتوں کا جواب نہیں دینا چاہتا۔انہوں نے کہا کہ ابھی انکوائری کمیٹی کی سفارشات کا انتظار ہے اس کے بعد فیصلے کیے جائیں گے۔
وقار کی طرف سے جمع کرائی گئی رپورٹ لیک نہیں ہوئی ،اگر ایسا ہوا ہے تو انکوائری کرائی جائیگی‘ چیئرمین پی سی بی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)
-
بچوں کے ب فارم ۔۔ والدین کے لئے بڑی خبر
-
کیا پٹرول کی قیمت مزید بڑھے گی؟ وزیر خزانہ کا اہم بیان سامنے آ گیا
-
عرب ملک نے تارکین وطن کے لیے دروازے کھول دیئے
-
سکولوں کے حوالے سے نیاحکمنامہ جاری
-
عید الفطر کا چاند کب نظر آئے گا؟ سپارکو کی اہم پیش گوئی سامنے آگئی
-
کامران ٹیسوری کو گورنر سندھ کے عہدے سے کیوں ہٹایا گیا؟ فاروق ستار کا حیران کن دعویٰ
-
بجلی صارفین کے لیے نیا ضابطہ کار جاری، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
گورنر سندھ کا موٹرسائیکل سواروں کو عید تک 3 لیٹر پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان
-
بھارتی سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ،نوجوان کی زندگی ختم کرنے کی اجازت دیدی
-
پاکستان میںامریکی قونصل خانہ بند کرنے کا فیصلہ، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
مریم نواز نےاہم ذمہ داری سی سی ڈی کو سونپ دی
-
تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
-
موٹرویز اور قومی شاہرائوں پر گاڑیوں کی حدِ رفتار میں کمی کر دی گئی



















































