جمعہ‬‮ ، 01 مئی‬‮‬‮ 2026 

شکست کا اصل ذمہ دار کون ہے ؟ عمر اکمل کے سنگین الزام پر ہنگامہ شروع

datetime 27  مارچ‬‮  2016 |

لاہور( نیوزڈیسک )قومی ٹیم کے نامور کھلاڑی عمر اکمل نے کہا ہے کہ میں ہمیشہ ہی کوچز کی باتوں کو اہمیت دیتا رہا ہوں جہاں تک انداز کی بات ہے تو ہر کھلاڑی کا اپنا انداز ہوتا ہے اور اس میں کوئی برائی بھی نہیں ،میں چاہتا ہوں کہ لوگ مجھے میرے اسٹائل کی وجہ سے پہچانیں،ہماری کوشش پورے ایونٹ میں جارحانہ کھیل کی تھی لیکن افسوس کے ہم اپنے پلان پر عملدر آمد نہیں کرواسکے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں لیا جاسکتا کہ ہم ہر شعبے میں ہی ناکام رہے ہیں۔ ایک انٹر ویو میں عمر اکمل نے کہا کہ میں قومی ٹیم میں اپنی بیٹنگ کی وجہ سے آیا ہوں اور اگر میرے انداز میں خامیاں ہوتیں تو پھر کوئی مجھے سلیکٹ نہ کرتا ۔ٹی ٹونٹی کرکٹ میں آپ گیندیں روک نہیں سکتے،ایسا نہیں ہوسکتا کہ پچاس گیندیں کھیلنے کا سوچیں۔ آپ ایک اوور میں ایک یا دو گیندیں ہی ضائع کرسکتے ہیں اور اس پر بھی کبھی کبھی کوچز اور کپتان سے سخت ڈانٹ پڑسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹی ٹونٹی کرکٹ میں دو سو ڈھائی سو رنز بھی بن جاتے ہیں اور ہم نے بنگلہ دیش کے خلاف کافی عرصے کے بعد دوسو رنز بنائے۔ ہماری کوشش پورے ایونٹ میں جارحانہ کھیل کی تھی لیکن افسوس کے ہم اپنے پلان پر عملدر آمد نہیں کرواسکے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں لیا جاسکتا کہ ہم ہر شعبے میں ہی ناکام رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری بیٹنگ ہر میچ میں ہی کافی بہتر کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ اگر میں کہوں کہ شکست کی بڑی وجہ بیٹسمین نہیں بالرز ہیں تو زیادہ غلط نہیں ہے۔ ایسی وکٹوں پر جہاں گیند ٹرن ہورہا تھا، وہاں ہمارے اسپنرز بدقسمتی سے وکٹ کا فائدہ نہیں ا±ٹھا سکے اور پھر کچھ میچز میں ہمارے خلاف زیادہ رنز بن گئے۔پاکستان میں ایک ٹرینڈ بن گیا ہے کہ ہماری بالنگ مضبوط ہے، بیٹنگ ناکام ہوگئی ہے۔ وکٹ کے حساب سے ہر میچ میں ہی ہم نے کافی بہتر بیٹنگ کی۔ نیوزی لینڈ کے خلاف وکٹ کیویز کے بالرز بہت اچھی لائن پر بالنگ کرائی۔شعیب ملک ہو یا احمد شہزاد یا پھر میں ہم سب نے کوشش کی کہ رنز کی رفتار بڑھائیں لیکن ایسا نہ ہوسکا۔وقاریونس کی اپنے خلاف رپورٹ کے حوالے سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میں نہ تو وقار بھائی کی وجہ سے کرکٹ کھیل رہا ہوں نہ کسی اور کی وجہ سے ، میں اپنے ٹیلنٹ اور صلاحیتوں پر ٹیم میں ہوں اور جب تک بورڈ چاہے گا ،میں ٹیم میں رہوں گا ،کسی کے چاہنے یا نہ چاہنے سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ وقار بھائی بڑے ہیں اور کوچ ہیں اگر انہوں نے کوئی رپورٹ تیار کی بھی ہے تو وہ ان کی ذاتی رائے ہے۔میں کیا کہہ سکتا ہوں۔میں قومی ٹیم میں اپنی بیٹنگ کی وجہ سے آیا ہوں اور اگر میرے انداز میں خامیاں ہوتیں تو پھر کوئی مجھے سلیکٹ نہیں کرتا۔عمر اکمل کے ٹیم کی ناقص کارکردگی کا تمام تر ملبہ باﺅلنگ پر ڈالنے کے بعد شائقین کرکٹ کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور ایسے ایسے تبصرے جاری ہیں جو تحریر میں نہیں لائے جاسکتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص


میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…