ہفتہ‬‮ ، 20 جون‬‮ 2026 

ورلڈ ٹی 20میں کوئی معجزہ ہی پاکستان کو فتح دلا سکتا ہے ، شعیب اختر

datetime 16  فروری‬‮  2016 |

لاہور(نیوز ڈیسک )قومی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بالر شعیب اختر نے کہا ہے کہ کوئی معجزہ ہو جائے تو کچھ کہا نہیں جا سکتا البتہ زمینی حقائق کے مطابق قومی ورلڈ ٹی ٹونٹی میں کامیابی کے لئے زیادہ امیدیں نہ باندھے ، قومی ٹیم کو اچھے بچے کی نہیں اچھے بالر کی ضرورت ہے ،یہ سوچ کر سر میں درد شروع ہو جاتا ہے کہ ہمارے بالرز کو کیا بنادیا گیا ہے، وہاب ریاض اٹیکنگ بالر ہے لیکن اسکی اسپیڈ کم کرانے کے لئے محنت ہورہی ہے اوراس کو نئی گیند نہیں دی جارہی،اب ہمیں بالرز کو رنز روکنے کی تاکید کی بجائے وکٹیں لینے کا سوچنا ہوگا وگرنہ ہمارے خلاف ٹی ٹونٹی میں 200اور ون ڈے میں 400رنز بھی بن جائیں گے ،بد قسمتی ہے کہ ہمارے پاس اچھے بلے باز نہیں آئے یا پھر ہمارے پاس انہیں ڈھونڈنے اور بنانے کا کوئی انتظام ہے نہ ہی ہم ضرورت محسوس کرتے ہیں، گھوم پھر کر وہی لڑکے ہیں مجھے تو ان کا سلمانی ٹیلنٹ نظر نہیں آتا ناجانے سلیکٹرز کو کہاں سے نظر آجاتا ہے؟۔ایک انٹر ویو میں شعیب اختر نے کہا کہ اب کرکٹ پہلے والی نہیں رہی کہ ٹیمیں ہٹنگ کیلئے آخری دس اوورز کا سوچیں گی اب تو بیٹسمین کو جب موقع ملتا ہے وہ بالنگ لائن کو تباہ کرکے رکھ دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جدید انداز کی کرکٹ کی باتیں بہت سننے کو مل رہی ہیں لیکن مجھے تو پرانی والی کرکٹ بھی نظر نہیں آتی، کم از کم ون ڈے میں پچاس اوورز ہی ہماری ٹیم کھیل لے اب تو وہ بھی کبھی کبھی ہی ہوتا ہے ورنہ تو ہمارے بیٹسمین ناجانے کونسی کرکٹ کھیلتے ہیں اور دکھ کا یہ مقام ہے کے پاکستان کی بہترین بالرز اب ایک سو چالیس یا ایک سو پینتالیس سے اوپر کی رفتار سے آگے ہی نہیں جارہے۔مجھے تو لگتا ہے یہ جرم ہے اور اس کی مجرم ہماری ڈومیسٹک کرکٹ والے ہیں جو اتنی خراب وکٹیں بناتے ہیں کہ کوئی بالر اگر تیز ہوتا ہے بھی تو وہ اپنی رفتار کم کردیتا ہے کیونکہ ٹیمیں اسے ایک دو میچز کے بعد دوبارہ ٹیم میں جگہ نہیں دیتی ،ایسا نہیں ہے کہ ہمارے پاس اچھے بالرزنہیں ہیں لیکن انہیں جہاں جاکر اچھا بالر بننا چاہیے وہیں وہ جاکر مزید خراب ہورہے ہیں۔نیشنل اکیڈمی کی افادیت نظر نہیں آرہی ہے۔میں نے پی سی بی کے بڑوں سے جاکر ملاقات کی تھی اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی تھی کہ وہ پاکستان کرکٹ کے لئے اچھا کرنا چاہتے ہیں لیکن کیا کیاجائے کہ نچلی سطح پر بہت زیادہ گند جمع ہوگیا ہے۔بہت سے لوگ نہیں چاہتے کہ ان کے مفتے بند ہوجائیں، ایک سسٹم ابھی اپنا نتیجہ نہیں دیتا وہ نیا سسٹم بنادیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وقار یونس بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں وہ مزید تو کچھ بھی نہیں کرسکتے جس حال پر ٹیم کو وہ لے آئے ہیں اس سے برے حال میں تو ٹیم کو کوئی غیر ملکی بھی نہیں لاسکتا تھا مجھے تو بورڈ کی سمجھ نہیں آتی ایک تو ہمارے بالرز کی کارکردگی دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے اب تو یہ حال ہوگیا ہے کہ دس دس وکٹوں سے ٹیم ہار رہی ہے۔ تین تین سو کے ہدف کا دفاع مشکل ہوگیا ہے کوئی بالر ایسا نہیں بچا جس پر بھروسہ ہو کہ چلو یار اس کو دس اوورز میں تو مار نہیں پڑے گی اور یہ دو چار وکٹیں تو اڑا ہی دے گا۔ ۔#/s#

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…