جمعہ‬‮ ، 19 جون‬‮ 2026 

ؓحب کی گلیوں سے نکل کر پی ایس ایل کیسے پہنچا

datetime 9  فروری‬‮  2016 |

کوئٹہ (نیوز ڈیسک)پاکستان کرکٹ کی تاریخ کی پہلی ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی لیگ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ٹیم پشاور زلمی کے نوجوان اسپنلر محمد اصغر نے صرف دو میچوں میں 8 وکٹیں حاصل کرکے کرکٹ پنڈتوں کی بھرپور توجہ حاصل کرلی ہے۔ محمد اصغر نے اپنے پس منظر کے حوالے سے بتایا کہ ان کا تعلق کوئٹہ سے ہے جبکہ کرکٹ میں آنے سے قبل کئی سال تک وہ بلوچستان کے علاقے حب میں رہائش پذیر رہے۔بائیں ہاتھ سے جادوئی اسپن باؤلنگ کرنے والے محمد اصغر 28 دسمبر 1998 کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے جہاں سے کوئی کرکٹر اس طرح نمایاں نہیں ہوسکا۔محمد اصغر نے ابتدائی کیرئیر کے حوالے سے کہا کہ انہیں حب میں رہنے کے دوران گلی کرکٹ کے ذریعے اپنے صلاحیتوں کا اندازہ ہوا۔نوجوان کرکٹر نے کلب کرکٹ کا آغازنیشنل کمبائن کلب سے کیا جبکہ نینشل بینک کے عہدے دار اسحاق پٹیل نے ان کے کھیل کو سراہتے ہوئے بینک کے اسپورٹس سربراہ اور سابق اسپنر اقبال قاسم سے ملوایا جہاں سے انھیں قومی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کا بہترین موقع میسر آیا۔اصغر کا کہنا ہے کہ اقبال قاسم نے ان کا بہت خیال رکھا اور آج وہ جس مقام پر وہ کھڑے ہیں، وہاں پہنچنے میں ان کا بڑا کردار ہے۔انھوں نے کہا کہ جس طرح اصغر کو گیند پر قابو اور ٹرن کرنے پر عبور حاصل ہے، وہ کسی کو سکھانا ممکن ہی نہیں۔سابق اسپنر نے کہا کہ اصغر کا سب سے بڑا ہتھیار ان کا اعتماد ہے۔حب سے روزانہ کراچی آنا ناممکن تھا اس لیے انھوں نے اصغر کا کراچی میں قیام کا بندوبست کیا جبکہ انڈر 19 سطح پر دس سے پندرہ ہزار کا وظفیہ مقرر کیا جو اب تین گنا ہو چکا ہے۔اقبال قاسم نے کہا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں اصغر کو سرپرائز کے طور پرشامل کیا جاسکتا ہے. ‘جس طرح وسیم اکرم نے ابتدائی میچوں میں ہی تہلکہ مچایا تھا اصغر بھی ایسی ہی اہلیت رکھتے ہیں۔اصغر سے جب پی ایس ایل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے اسے اپنی زندگی کا اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لیگ میں کھیلنا اور کارکردگی دکھانا ایک خواب کی مانند ہے۔پی ایس ایل کے ابتدائی دو میچوں میں اچھی کارکردگی کے بعد انھیں جس طرح پزیرائی ملی اس پر وہ بہت خوش ہیں اور وہ اس کی وجہ اپنی ٹیم پشاور زلمی اور کپتان شاہد آفریدی کو قرار دے رہے ہیں کیونکہ انہوں نے ناصرف انھیں منتخب کیا بلکہ کھیلنے کا بھرپور موقع دیا۔نوجوان اسپنر نے کہا کہ وہ پی ایس ایل میں اپنی کارکردگی کو شہدائے آرمی پبلک اسکول کے نام کرتے ہیں اور اب ان کا مقصد لیگ میں کامایبی حاصل کرکے ٹرافی کو پشاور اے پی ایس لے جا کر خوشی میں متاثرین کو بھی شریک کرنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…