بدھ‬‮ ، 20 مئی‬‮‬‮ 2026 

پاک بھارت سیریز‘ امیدوں کا آخری دیا بھی بجھ گیا

datetime 22  اگست‬‮  2015 |

لاہور / نئی دہلی(نیوز ڈیسک) پاک بھارت کرکٹ سیریز کے انعقاد کی امیدوں کا آخری دیا بھی بجھ گیا، مذاکرات میں ٹال مٹول سے مودی سرکار نے شائقین کرکٹ کو مایوس کر دیا، وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور و قومی سلامتی سرتاج عزیز پڑوسی ملک جائینگے نہ باہمی مقابلوں کے سلسلے میں کوئی مثبت پیش رفت ہوگی، تازہ پیش رفت سے پی سی بی حکام میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی،تھنک ٹینک کو ”بی“ پلان پر عمل درآمد کا فیصلہ جلد کرنا ہوگا، دسمبر میں صرف زمبابوے اور بنگلہ دیش کی ٹیمیں ہی فارغ ہیں۔تفصیلات کے مطابق فیوچر ٹور پروگرام کے تحت پاکستان کو رواں سال بھارت کی میزبانی کرنا ہے،3ٹیسٹ، 5 ون ڈے اور 2ٹی ٹوئنٹی میچز کیلیے پی سی بی کی جانب سے نیوٹرل وینیو یو اے ای کا انتخاب بھی کیا جا چکا، اس ضمن میں دونوں کرکٹ بورڈز نے ایم او یو پر دستخط کیے ہوئے ہیں، مگر گورداس پور میں پولیس اسٹیشن پر حملے کے بعد سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا، سرحدوں پر بھی فائرنگ کا تبادلہ معمول بن چکا ہے۔اس صورتحال میں بی سی سی آئی کو سیریز سے انکار کے بہانے تراشنے کا موقع مل گیا،سیکریٹری انوراگ ٹھاکر ایک سیاست دان بھی ہیں، انھوں نے بار بار مخالفانہ بیان داغے،پاکستان پر دراندازی کا الزام دھرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ہمارے ملک کا امن متاثر ہورہا ہے،سرحدوں پر کشیدگی ہو توکرکٹ نہیں کھیلی جا سکتی۔گذشتہ دنوں چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے بتایا تھا کہ وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز 23 اگست کو مذاکرات کیلیے بھارت جا رہے ہیں، ان سے باہمی سیریز کے حوالے سے بھی تعمیری بات ہوئی، وہ اپنے دورے کے دوران کوئی مثبت پیش رفت کرنے کی کوشش کریںگے، اس دوران برف پگھل گئی تو یو اے ای میں مقابلوں کے امکانات میں اضافہ ہوجائے گا، مگر گذشتہ روز اطلاعات سامنے آئیں کہ بھارت مذاکرات نہیں کرنا چاہتا ، حکام نے الزام عائد کیاکہ پاکستان طے شدہ ایجنڈے کی خلاف ورزی کررہا ہے۔پڑوسی ملک کی جانب سے لگائی جانے والی نئی شرائط کے بعد بات چیت آگے نہیں بڑھا سکتے، بھارت کی طرف سے مذاکرات میں ٹال مٹول نے جہاں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہونے کے امکانات پر کاری ضرب لگائی وہیں باہمی سیریز کی رہی سہی امیدوں پربھی پانی پھر گیا،یاد رہے کہ بی سی سی آئی کو سیریز کیلیے اپنی حکومت سے کلیئرنس درکار تھی،رواں ماہ کے آخر میں کرکٹ کمیٹی اجلاس میں بات چیت کرکے کوئی حتمی جواب دینا تھا جس کے امکانات اب باقی دکھائی نہیں دیتے، مذاکرات ختم کرنے کی اطلاعات پر پی سی بی حکام میں بھی شدید مایوسی کی لہر پائی جاتی ہے۔ان کے مطابق پاک بھارت سیریز کو عالمی کرکٹ میں ایشز سے بھی زیادہ توجہ ملتی ہے، نہ صرف دونوں ممالک بلکہ دنیا بھر کے شائقین ان مقابلوں پر نگاہیں مرکوز رکھتے ہیں، کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے لیکن یہاں ہر بار کشیدگی کا نزلہ کھیلوں پر گرا دیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ دونوں ممالک کے مابین آخری مختصر سیریز دسمبر2011 اور جنوری 2012میں ہوئی تھی جب پاکستان نے بھارت کا دورہ کیا، اس دوران 3ون ڈے اور 2ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گئے تھے۔روایتی حریفوں کے مقابلے ورلڈکپ، چیمپئنز ٹرافی اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیسے آئی سی سی ایونٹس میں ہی ہوتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نئی صورتحال میں پی سی بی کا تھنک ٹینک سر جوڑ کر کسی اور ٹیم کو یواے ای بلانے پر غور کرے گا کیونکہ اس کے بعد معاملات کو حتمی شکل دینے کیلیے زیادہ وقت باقی نہیں بچے گا۔ یاد رہے کہ ”بی“ پلان کا ذکر چیئرمین بورڈ شہریار خان بھی بار بار کرتے رہے ہیں مگر دسمبر میں صرف زمبابوے اور بنگلہ دیش کی ٹیمیں ہی فارغ ہوں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…