ہفتہ‬‮ ، 14 فروری‬‮ 2026 

بورڈ چیف کی دبے الفاظ میں دھمکی سےارکان اسمبلی ناراض

datetime 24  اپریل‬‮  2015 |

لاہور(نیوز ڈیسک) بورڈ چیف کی دبے الفاظ میں دھمکی سے ارکان اسمبلی مزید ناراض ہو گئے، بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست پر شہریار خان کی وضاحت کو اعلیٰ حلقوں میں پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا،ان کے مطابق کرکٹ میں بہتری کیلیے کوئی بھی راست قدم پاکستان کا داخلی مسئلہ ہوگا، آئی سی سی کی جانب سے کسی کارروائی کا خدشہ ظاہر کرنا بے بنیاد ہے۔
تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش میں قومی کرکٹ ٹیم کا کارکردگی پر ارکان اسمبلی بھی تلملا اٹھے تھے، انھوں نے پی سی بی کی کمان پیشہ ورانہ مہارت کے حامل افراد کے ہاتھوں میں دینے کا مطالبہ بھی کیا، جواب میں چیئرمین بورڈ شہریارخان نے ایک عجیب وغریب منطق پیش کرتے ہوئے اپنا دفاع کیا،ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھاکہ ”گرین شرٹس کی کارکردگی پر پوری قوم کی طرح مجھے بھی تشویش ہے لیکن لیکن قومی اسمبلی کے کہنے پر کوئی قدم اٹھایا گیا تو آئی سی سی ہمارے خلاف کارروائی کرسکتی ہے“ یہی حال ان دنوں کونسل نے سری لنکا کاکیا ہے۔
مقتدر حلقوں نے ان کی اس دھمکی آمیز وضاحت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ کھیل میں بہتری کیلیے پاکستان کوئی بھی اقدام اٹھائے،کوچ، کپتان، کھلاڑی یا بورڈ کا انتظامی ڈھانچہ تبدیل کردیا جائے، ڈومیسٹک مقابلوں کیلیے نیا نظام متعارف ہو یا پرانا برقرار رہے، یہ سب ملکی کرکٹ کے اندرونی معاملات ہونگے،آئی سی سی کی کوئی پالیسی یہ نہیں کہتی کہ مسائل کے حل کیلیے پروفیشنل اور ایماندار افراد کی خدمات حاصل کرنے سے گریز کیا جائے،میرٹ پر کھلاڑیوں کا انتخاب نہ کیا جائے۔
بہتری کیلیے فیصلوں پر کسی کارروائی کے خدشات ظاہر کرکے چیئرمین پی سی بی نے اپنا دفاعی مورچہ مضبوط کرنے کی کوشش کی، سری لنکن بورڈ کو مثال بنانا اس لیے درست نہیں ہوگا کہ سابق عہدیداروں کے کہنے پر آئی سی سی نے فنڈز روکے جس کی وجہ سے مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، پی سی بی کی یہ صورتحال نہیں، یہ تصور کرنا بھی درست نہیں کہ کونسل ہمیشہ ہر چیئرمین کی حمایت میں میدان میں اتر ا?ئے گی، ماضی میں بھی ایک عہدیدار کو ایسی سپورٹ حاصل کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…