جمعرات‬‮ ، 02 اپریل‬‮ 2026 

بورڈ چیف کی دبے الفاظ میں دھمکی سےارکان اسمبلی ناراض

datetime 24  اپریل‬‮  2015 |

لاہور(نیوز ڈیسک) بورڈ چیف کی دبے الفاظ میں دھمکی سے ارکان اسمبلی مزید ناراض ہو گئے، بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست پر شہریار خان کی وضاحت کو اعلیٰ حلقوں میں پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا،ان کے مطابق کرکٹ میں بہتری کیلیے کوئی بھی راست قدم پاکستان کا داخلی مسئلہ ہوگا، آئی سی سی کی جانب سے کسی کارروائی کا خدشہ ظاہر کرنا بے بنیاد ہے۔
تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش میں قومی کرکٹ ٹیم کا کارکردگی پر ارکان اسمبلی بھی تلملا اٹھے تھے، انھوں نے پی سی بی کی کمان پیشہ ورانہ مہارت کے حامل افراد کے ہاتھوں میں دینے کا مطالبہ بھی کیا، جواب میں چیئرمین بورڈ شہریارخان نے ایک عجیب وغریب منطق پیش کرتے ہوئے اپنا دفاع کیا،ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھاکہ ”گرین شرٹس کی کارکردگی پر پوری قوم کی طرح مجھے بھی تشویش ہے لیکن لیکن قومی اسمبلی کے کہنے پر کوئی قدم اٹھایا گیا تو آئی سی سی ہمارے خلاف کارروائی کرسکتی ہے“ یہی حال ان دنوں کونسل نے سری لنکا کاکیا ہے۔
مقتدر حلقوں نے ان کی اس دھمکی آمیز وضاحت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ کھیل میں بہتری کیلیے پاکستان کوئی بھی اقدام اٹھائے،کوچ، کپتان، کھلاڑی یا بورڈ کا انتظامی ڈھانچہ تبدیل کردیا جائے، ڈومیسٹک مقابلوں کیلیے نیا نظام متعارف ہو یا پرانا برقرار رہے، یہ سب ملکی کرکٹ کے اندرونی معاملات ہونگے،آئی سی سی کی کوئی پالیسی یہ نہیں کہتی کہ مسائل کے حل کیلیے پروفیشنل اور ایماندار افراد کی خدمات حاصل کرنے سے گریز کیا جائے،میرٹ پر کھلاڑیوں کا انتخاب نہ کیا جائے۔
بہتری کیلیے فیصلوں پر کسی کارروائی کے خدشات ظاہر کرکے چیئرمین پی سی بی نے اپنا دفاعی مورچہ مضبوط کرنے کی کوشش کی، سری لنکن بورڈ کو مثال بنانا اس لیے درست نہیں ہوگا کہ سابق عہدیداروں کے کہنے پر آئی سی سی نے فنڈز روکے جس کی وجہ سے مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، پی سی بی کی یہ صورتحال نہیں، یہ تصور کرنا بھی درست نہیں کہ کونسل ہمیشہ ہر چیئرمین کی حمایت میں میدان میں اتر ا?ئے گی، ماضی میں بھی ایک عہدیدار کو ایسی سپورٹ حاصل کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…