پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچنگ سٹاف کی بھاری تنخواہیں مگر نتائج صفر

  جمعرات‬‮ 5 مارچ‬‮ 2015  |  23:43

لاہور(نیوزڈیسک) پاکستان کرکٹ ٹیم کا کوچنگ سٹاف تنخواہوں اور مراعات کی مد میں چالیس لاکھ روپے ماہانہ وصول کر رہا ہے مگر نتائج صفر ہیں۔ اتنے بڑے کوچنگ سٹاف کے باوجود قومی ٹیم کی کارکردگی کسی بھی شعبے میں قابل تعریف نہیں ہے۔ اگر پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ وقار یونس کی بات کی جائے تو وہ ماہانہ 15 لاکھ روپے تنخواہ کے علاوہ مفت سفری سہولیات سمیت لاکھوں روپے مراعات بھی لیتے ہیں‘سابق کپتان اور دوسری مرتبہ پاکستان کے ہیڈ کوچ بننے والے وقار یونس ماہانہ 15 لاکھ روپے تنخواہ کے علاوہ مفت سفری سہولیات سمیت


لاکھوں روپے مراعات بھی لیتے ہیں‘ ان کی فیملی سڈنی میں مقیم ہونے کے باعث وہ آسٹریلوی شہر ی بھی ہیں‘ وہ سال کے دورا ن جب بھی آسٹریلیا جانا چاہیں انہیں بزنس کلاس ٹکٹ دی جاتی ہے‘ ایک طرف یہ بھاری مراعات ہیں لیکن اگر آپ میگاایونٹ میں پاکستانی باﺅلرز کا ریکارڈ دیکھیں تو کوئی بھی پاکستانی فاسٹ باﺅلرورلڈ کپ کے ٹاپ باﺅلرز میں جگہ بنانے میں ناکام رہا ہے‘ بیٹنگ کوچ کی بات کریں توزمبابوے سے تعلق رکھنے والے بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کو ماہانہ 6 لاکھ 66 ہزار روپے دیئے جاتے ہیں‘انہیں ہرارے جانے کےلئے بزنس کلاس ٹکٹ دی جاتی ہے اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں وی آئی پی رہائش اور دیگر مراعات دی جاتی ہیں جبکہ ان کی کوچنگ میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کےخلاف ایک رن کے عوض چار وکٹیں کھو دیں جو پاکستان کا بدترین ریکارڈ ہے اور ناصر جمشید گزشتہ اپنی تمام اننگز میںایک ہی طرح کا شارٹ مارتے ہوئے آﺅٹ ہوئے ہیں‘ جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے فیلڈنگ کوچ گرانٹ لیوڈن کو بھی ماہانہ 6 لاکھ 66 ہزار روپے ‘وی آئی پی رہائش اور دیگر مراعات دی جاتی ہیں جبکہ ان کی کوچنگ کا حال یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم ہرمیچ میں چار سے پانچ آسان کیچ چھوڑ رہی ہے۔ سابق لیگ سپنر مشتاق احمد قومی ٹیم کے سپن باﺅلنگ کوچ ہیں‘ انہیں ماہانہ ساڑھے چھ لاکھ روپے تنخواہ اور دیگر مراعات دی جاتی ہیں‘ ان کی موجودگی میں سپنرز کی کارکردگی سب کے سامنے ہے‘ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے قومی ٹیم کے فزیوتھراپسٹ اور ایتھلیٹ ٹرینر بریڈرابن سن کو ماہانہ 6 لاکھ چھیاسٹھ ہزار روپے دیئے جاتے ہیں‘ انہیں بھی سڈنی کےلئے بزنس کلاس ٹکٹ دی جاتی ہے اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں وی آئی پی رہائش اور دیگر مراعات دی جاتی ہیں‘ بھاری بھرکم کوچنگ سٹاف کی موجودگی میں نتائج نہ ملنے پر سابق کرکٹرز اور شائقین کرکٹ پی سی بی اور خاص طور پر نجم سیٹھی سے شدید نالاں ہیں جنہوں نے پاکستان کرکٹ کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔