بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایسا پاکستانی شخص جسے گورنر جنرل کی ڈرائیوری کرنے پر ملک کا وزیر اعظم بنادیا گیا ، جانئے حیران کن معلومات

datetime 24  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستانی تاریخ یوں تو کئی انوکھے واقعات سے بھری پڑی ہے تاہم آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ پاکستان کا ایک ایسا وزیراعظم بھی گزرا ہے جس کو گورنر جنرل غلام محمد کی ڈرائیوری کرنے پر وزارت عظمیٰ سے نواز دیا گیا تھا۔ محمد علی بوگرہ پاکستان کے تیسرے وزیر اعظم تھے جنہیں (1953/55) اپنے دورمیں امریکہ کی حمایت حاصل تھی۔وہ اپنی

عادات میں نرالے تھے۔گورنرجنرل پاکستان غلام محمد نے جب انہیں وزیرِ اعظم پاکستان نامزد کیا تو وہ اس وقت امریکا میں پاکستان کے سفیر تھے۔ محمد علی بوگرا غلام محمدکو اپنا محسن سمجھتے تھے اور ان سے بے پناہ عقیدت میں وہ دوسروں کو حیران بھی کردیتے اورپچھاڑ بھی دیتے تھے ۔ محقق نعیم احمد نے اپنی تالیف ”پاکستان کے پہلے سات وزرائے اعظم“ میں محمد علی بوگرہ کاایک ایسا واقعہ بیان کیا ہے جو انکی ذہن کی عکاسی کرتا اورموقع پرست لوگوں کے ایوان اقتدار تک پہنچنے کے طریقوں پر روشنی بھی ڈالتا ہے ۔انہوں نے لکھا ہے کہ”امریکا نے ایک دفعہ پاکستان کو دوستی کے تحت ریلوے کے چند انجن دیے۔ ان انجنوں کے وصول کرنے کی رسم ادا کرنی تھی۔ دراصل گورنر جنرل کو یہ انجن وصول کرنے تھے۔ لہٰذا گورنر جنرل صاحب باقاعدہ اپنی گاڑی میں اس مقام کی طرف روانہ ہوئے۔ لیکن بوگرا صاحب ایک فوجی کی موٹر سائیکل کو خود چلانے لگے اور گورنر جنرل کی گاڑی کے آگے آگے پائلٹ کا کردار ادا کیا۔ جب ریلوے اسٹیشن جہاں پر انجن کھڑے تھے، وہاں پہنچے تو انجن کے اندر پہنچ گئے۔ انجن کے ڈرائیور کی ٹوپی لے کر اپنے سر پر پہن لی اور انجن چلانا شروع کر دیا۔“گورنرجنرل پاکستان غلام محمد نے جب انہیں وزیرِ اعظم پاکستان نامزد کیا تو وہ اس وقت امریکا میں پاکستان کے سفیر تھے۔ محمد علی بوگرا غلام محمدکو اپنا محسن سمجھتے تھے اور ان سے بے پناہ عقیدت میں وہ دوسروں کو حیران بھی کردیتے اورپچھاڑ بھی دیتے تھے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…