پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

صاحب نقب

datetime 24  جون‬‮  2017 |

مسلمہ بن عبدالملک نے ایک قلعے کا محاصرہ کیا ۔ مسلمانوں کو قلعے کی دیوار میں ایک جگہ اتنا بڑا سوراخ نظر آیا جس سے بمشکل ایک شخص داخل ہو سکتا تھا ۔ لوگوں نے اس سوراخ کی طرف دیکھا اور ایک دوسرے کو توجہ دلائی۔ انھیں اندر کے حالات کی کوئی خبر نہیں تھی کہ اس سوراخ کے پاس کتنے لوگ موجود ہیں۔ آیا اس شخص کو سوراخ سے نکلنے اور لڑنے کا موقع بھی مل پائے گا یا نہیں۔

یہ سیدھی سیدھی موت کو گلے لگانے والی بات تھی۔ لوگ ایک دوسرے کے منہ کی طرف دیکھ رہے تھے کہ سب سے پہلے کون اس کے ذریعے اندر جائے۔ اسلامی لشکر میں سے ایک غیر معروف شخص سامنے آیا اور کہا: میں جاتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ اس سوراخ کے ذریعے اندر چلا گیا اور صورت حال کو سنبھال لیا اور اس کے بعد اور بھی بہت سے لوگ اس کے ذریعے اندر داخل ہوئے اور مسلمانوں نے قلعہ فتح کر لیا۔ فتح کے بعد مسلمہ بن عبدالملک نے اعلان کیا کہ “صاحب نقب” یعنی سوراخ کے ذریعے سب سے پہلے اندر داخل ہونے والا شخص میرے پاس آئے۔ لیکن کوئی نہ آیا۔ اس نے دوبارہ، سہ بارہ یہ اعلان کروایا۔ پھر اعلان کرنے والے کے پاس ایک شخص آیا اور کہا: سپہ سالار سے میرے ؛لیے ملاقات کی اجازت حاصل کرو ۔ اعلان کرنے والے نے پوچھا کیا آپ “صاحب نقب” ہیں۔ اس نے جواب دیا: میں اس کے بارے میں جانتا ہوں۔ اعلان کرنے والے نے مسلمہ کو بتایا۔ مسلمہ نے فورا اجازت دے دی۔ اس شخص نے مسلمہ سے کہا : “صاحب نقب” کی اپنے بارے میں بتانے کے لیے تین شرطیں ہیں۔ مسلمہ نے کہا: اس نے ایسا کارنامہ سرانجام دیا ہے کہ ہم اس کی ہر شرط ماننے کے لیے تیار ہیں۔ اس نے کہا: پہلی شرط یہ ہے کہ خلیفہ کو اس کا نام لکھ کر نہ بھیجا جائے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ اسے کسی انعام کی پیشکش نہ کی جائے۔تیسری شرط یہ ہے کہ اس سے اس کا نام نہ پوچھا جائے اور نہ یہ پوچھا جائے کہ اس کا تعلق کس قبیلے سے ہے۔

مسلمہ نے کہا: مجھے منظور ہے۔ اس شخص نے جواب دیا: میں ہی وہ شخص ہوں۔ مسلمہ اس واقعہ کے بعد جب بھی نماز پڑھتا تو یہ دعا ضرور کرتا: اے الله! مجھے آخرت میں “صاحب نقب” کا ساتھ نصیب فرما۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…