پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

اشفاق احمد نے بانو قدسیہ کو قتل کی دھمکی کیوں دی تھی؟

datetime 24  جون‬‮  2017 |

بانو قدسیہ کہتی ھیں کہ:کسی اور سے شادی پر اشفاق احمد نے قتل کی دھمکی دی تھی ـ اشفاق کے والدین نے ان سے کہا ; کہ جہاں تم شادی کرنا چاہتے ھو وہاں پر ھم تمہیں شادی نہیں کرنے دیں گے۔ ھم تم کو قتل کر دیں گے لیکن تمہاری پسند کی شادی نہیں ہونے دیں گے۔ اس دھمکی کے بعد اشفاق بہت زیادہ پریشان تھے اور پھر انہوں نے اٹلی کے شہر روم جانے کا فیصلہ کیا۔

وہاں سے مجھے باقاعدگی کے ساتھ ڈبل خط لکھنے شروع کر دیئے ایک خط صبح اور دوسرا شام کے وقت۔ اور کئی خطوں میں یہ لکھا کہ ؛’’ قدسیہ اگر تم نے کسی اور سے شادی کی تو میں تم دونوں کو قتل کر دوں گا۔ ان خطوط کو پڑھنے کے بعد میرے لیئے بڑی مشکل پیدا ھو گئی تھی ان دنوں میری والدہ میری شادی ایک کرنل کے ساتھ کرنا چاھتی تھیں ۔۔۔۔! 16 دسمبر 1956 کو 455 این سمن آباد میں میری اور اشفاق احمد صاحب کی شادی بڑی سادگی سے ھوئی۔ (اس وقت بانو تقریباً 28 اور اشفاق صاحب 31 سال کے تھے) اس دن میں نے پرانا سفید شلوار قمیض پہنا ،،، قمیض تھوڑی سی پھٹی ھوئی تھی ،، اشفاق صاحب معمولی لکیروں والے کرتے میں ملبوس تھے مفتی (ممتاز مفتی) جی ، محمد حسین آرٹسٹ اور ڈیڈی جی باراتی تھے۔ ریزی اور محمودہ اصغر میری والدہ سمیت مائیکہ والے تھے نہ کوئی ڈھولک بجی نہ کوئی مہندی کی رسم ھی ھوئی۔ نکاح کے بعد اشفاق احمدخاں صاحب نے اپنی پاس بک میرے ہاتھوں میں چپ چاپ تھما دی۔ اس میں نو سو روپے جمع تھے ۔۔۔!!! ممتاز مفتی کہتے ھیں کہ بانو قدسیہ زندگی میں صرف تین بار ابھری۔ جب اشفاق نے اس سے شادی کی۔ جب انکے گھر میں دال روٹی کا چکر تھا اور اس نےسکرپٹ پر سکرپٹ لکھنے شروع کیئے۔ اور پھر جب اشفاق احمد نے نیا گھر بنوایا مگر قرضہ اتنا چڑھا کہ بانو آپا کو اک بار پھر سے کمر کسنی پڑی اور پھر اس نے سب کچھ دن رات لکھا۔ کبھی ریڈیو کے لیئے، کبھی اخبار کے لیئے اور جب کوئی پوچھتا کہ گھر کی فلاں چیز کتنے کی ھے تو بانو آپا کہتی ۔۔ میرے دو سکر پٹ یا میری فلاں تحریر کی قیمت ۔۔!! اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے!

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…