منگل‬‮ ، 25 جون‬‮ 2024 

جنگ یمامہ کا واقعہ

datetime 7  جون‬‮  2017
جنگ یمامہ
جنگ یمامہ
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

حضرت جعفر بن عبداللہ بن اسلم ہمدانیؓ فرماتے ہیں کہ جنگ یمامہ کے دن مسلمانوں میں سب سے پہلے حضرت ابوعقیل انیفیؓ زخمی ہوئے ان کو تیر کندھوں اور دل کے درمیان لگا تھا جو لگ کر ٹیڑھا ہو گیا جس سے شہید نہ ہوئے پھر وہ تیر نکالا گیا اور ان کی بائیں جانب اس تیر کے لگنے کی وجہ سے کمزوری ہو گئی تھی یہ شروع دن کی بات ہے پھر انہیں اٹھا کر ان کے خیمے میں لایا گیا۔

جب لڑائی گھمسان کی ہونے لگی اور مسلمانوں کو شکست ہو گئی اور وہ پیچھے ہٹتے ہٹتے اپنی قیام گاہوں سے بھی گزر گئے اور ابوعقیل اپنے زخم کی وجہ سے کمزور پڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے حضرت معن بن عدیؓ کی آواز سنی وہ انصار کو بلند آواز سے لڑنے کے لئے ابھار رہے تھے کہ اللہ پر بھروسہ کرو اور اپنے دشمن پر دوبارہ حملہ کرو اور معنؓ لوگوں کے آگے آگے تیزی سے چل رہے تھے یہ اس وقت کی بات ہے جبکہ انصار کہہ رہے تھے کہ ہم انصار کو دوسروں سے الگ کر دو۔ چنانچہ ایک ایک کر کے انصار ایک طرف جمع ہو گئے (اور مقصد یہ تھ کہ یہ لوگ جم کر لڑیں گے اور بہادری سے آگے بڑھیں گے اور دشمن پر جا کر حملہ کر دیں گے۔

جنگ یمامہ اور حضرت ابوعقیل انیفیؓ

اس سے تمام مسلمانوں کے قدم جم جائیں گے اور حوصلے بڑھ جائیں گے)۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ پھر حضرت ابوعقیلؓ انصار کے پاس جانے کے لئے کھڑے ہوئے۔ میں نے کہا کہ اے ابوعقیلؓ آپ کیا چاہتے ہیں؟ آپ میں لڑنے کی طاقت تو ہے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منادی نے میرا نام لے کر آواز لگائی ہے میں نے کہا وہ تو کہہ رہا ہے اے انصار! لڑنے کے لئے واپس آؤ وہ زخمیوں کو واپس بلانا نہیں چاہتا ہے (وہ تو ان لوگوں کو بلا رہا ہے جو لڑنے کے قابل ہوں) حضرت ابوعقیلؓ نے کہا (کہ انہوں نے انصار کو بلایا ہے اور میں چاہے زخمی ہوں لیکن) میں بھی انصار میں سے ہوں اس لئے میں ان کی پکار پر ضرور جاؤں گا چاہے مجھے گھٹنوں کے بل جانا پڑے۔

حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ جنگ یمامہ کے دن حضرت ابوعقیلؓ نے اپنی کمرباندھی اور اپنے دائیں ہاتھ میں ننگی تلوار لی اور پھر یہ اعلان کرنے لگے کہ اے انصارٖ! جنگ حنین کی طرح دشمن پر دوبارہ حملہ کرو۔ چنانچہ حضرات انصار جمع ہو گئے اللہ ان پر رحم فرمائے اور پھر مسلمانوں سے آگے آگے بڑی بہادری کے ساتھ دشمن کی طرف بڑھے یہاں تک کہ دشمن کو میدان جنگ چھوڑ کر باغ میں گھس جانے پر مجبور کر دیا۔

مسلمان اور دشمن ایک دوسرے میں گھس گئے اور ہمارے اور ان کے درمیان تلواریں چلنے لگیں۔ حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوعقیلؓ کو دیکھا کہ ان کا زخمی ہاتھ کندھے سے کٹ کر زمین پر گرا ہوا تھا او ران کے جسم میں چودہ زخم تھے جن میں سے ایک زخم جان لیوا تھا اور اللہ کا دشمن مسلیمہ قتل ہو گیا۔حضرت ابوعقیلؓ زمین پر زخمی پڑے ہوئے تھے اور ان کے آخری سانس تھے۔ میں نے جھک کر ان سے کہا اے ابوعقیل! انہوں نے کہا کہ لبیک حاضر ہوں اور لڑکھڑاتی ہوئی زبان سے پوچھا کہ فتح کس کی ہوئی ہے؟ میں نے کہا کہ آپ کو خوشخبری ہو (کہ مسلمانوں کو فتح ہوئی ہے) اور میں نے بلند آواز سے کہا اللہ کا دشمن قتل ہو چکا ہے۔

اس پر انہوں نے اللہ کی حمد بیان کرنے کے لئے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور انتقال فرما گئے اللہ ان پر رحم فرمائے۔ حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ جنگ یمامہ سے مدینے واپس آنے کے بعد میں نے حضرت عمرؓ کو ان کی ساری کارگزاری سنائی۔حضرت عمرؓ نے فرمایا اللہ ان پر رحم فرمائے وہ ہمیشہ شہادت مانگا کرتے تھے اور جہاں تک مجھے معلوم ہے وہ ہمارے نبی کریمﷺ کے بہترین صحابہؓ میں سے تھے اور شروع میں اسلام لائے تھے۔



کالم



اگر کویت مجبور ہے


کویت عرب دنیا کا چھوٹا سا ملک ہے‘ رقبہ صرف 17 ہزار…

توجہ کا معجزہ

ڈاکٹر صاحب نے ہنس کر جواب دیا ’’میرے پاس کوئی…

صدقہ‘ عاجزی اور رحم

عطاء اللہ شاہ بخاریؒ برصغیر پاک و ہند کے نامور…

شرطوں کی نذر ہوتے بچے

شاہ محمد کی عمر صرف گیارہ سال تھی‘ وہ کراچی کے…

یونیورسٹیوں کی کیا ضرروت ہے؟

پورڈو (Purdue) امریکی ریاست انڈیانا کا چھوٹا سا قصبہ…

کھوپڑیوں کے مینار

1750ء تک فرانس میں صنعت کاروں‘ تاجروں اور بیوپاریوں…

سنگ دِل محبوب

بابر اعوان ملک کے نام ور وکیل‘ سیاست دان اور…

ہم بھی

پہلے دن بجلی بند ہو گئی‘ نیشنل گرڈ ٹرپ کر گیا…

صرف ایک زبان سے

میرے پاس چند دن قبل جرمنی سے ایک صاحب تشریف لائے‘…

آل مجاہد کالونی

یہ آج سے چھ سال پرانی بات ہے‘ میرے ایک دوست کسی…

ٹینگ ٹانگ

مجھے چند دن قبل کسی دوست نے لاہور کے ایک پاگل…