پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

تہجد

datetime 3  جون‬‮  2017 |

اگر آپ تہجد نہیں پڑھتیں کسی دعا کے لئے ‘ تو اس کا مطلب ہے آپ اس کو پانے کے لئے خود بھی سیرئیس نہیں ہیں۔ شدید پریشانی کے حالات میں دعائیں بھی شدید مانگنی ہو تی ہیں۔ یہ پانچ وقت کی نماز کے بعد روٹین کی طرح دعا مانگنا کافی نہیں ہوتا۔ جتنی بڑی آزمائش ہے ‘ اتنا زیادہ اپنی دعا کو بڑھائیں۔’مگر یہ کیسے پتا لگے گا کہ یہ آزمائش ہے یا گناہوں کی سزا؟ یہ فرق کیسے معلوم کروں؟معلوم کر کے کیا کریں گی؟ سزا ہوئی تو معافی مانگیں گی‘ آزمائش ہوئی تو دعا کریں گی کہ

اللہ اس میں کامیاب کرے؟ مجھ سے پوچھیں تو یہ معلوم کرنا لا یعنی ہے۔ اس بحث کو چھوڑ دیں اور یہ دونوں کام کرتی رہیں۔آپ کو پتہ ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پہ آزمائش کیوں ڈالتا ہے؟۔بھیگے چہرے کے ساتھ انھوں نے نفی میں سر ہلایا۔’’بعض دفعہ کسی انسان کو اللہ تعالیٰ کوئی اونچا درجہ دے دیتا ہے ‘ مگر اس کے اعمال اتنے نہیں ہوتے کہ وہ اس درجے تک پہنچ جائے۔ یعنی وہ اچھا آدمی ہوتا ہے مگر بہت زیادہ نیکیاں نہیں کر پا رہا ہوتا۔ اور اللہ تعالیٰ نا انصافی تو نہیں کر سکتا نا‘ سو اس شخص کو اس درجے تک پہنچانے کے لئے۔۔۔سمجھیں پہلی سیڑھی پہ کھڑے شخص کو دسویں سیڑھی تک پہنچانے کے لئے اللہ اس پہ پریشانیاں ڈالتا ہے ‘ تاکہ اس کے گناہ جھڑیں۔ ظاہر ہے گناہ کم ہو ں گے تو وہ اوپر اٹھتا جائے گا۔جس دن وہ اس مقام تک پہنچ جاتا ہے ‘ اس کی آزمائش کھول دی جاتی ہے۔ یہ میری خود سے گھڑی بات نہیں ہے‘ یہ صحیح حدیث کا مفہوم ہے۔’’مطلب کہ…یہ سب ہمیں کسی مقام تک پہنچانے کے لئے ہوتا ہے؟‘‘’’جی۔ اب یہ آپ پہ ہے کہ آپ اس مقام تک کتنی جلدی پہنچتی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ نیکیاں کریں‘ تو جلدی زینے عبور کریں گی ‘ حدیث میں آتا ہے کہ انسان کو کوئی چیز ملنے والی ہوتی ہے کہ اس کے گناہ آڑے آ جاتے ہیں۔ اس لئے گناہوں سے بچیں‘ اور زیادہ سے زیادہ اچھے اعمال کریں۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کشادگی کا انتظار بہترین عبادت ہے۔ اس لئے اپنی کشادگی کاانتظار کرے۔
نمرہ احمد کے ناول نمل سے اقتباس

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…