جمعہ‬‮ ، 09 جنوری‬‮ 2026 

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی کرامت

datetime 23  مئی‬‮  2017 |

آسمان سے بارش برسنی بند ہو گئی، قحط سالی شدید ہو گئی، کھیت تباہ ہونے لگے، جانوروں کے تھنوں میں دودھ خشک ہو گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو لے کر نکلے، ان کو دو رکعتیں پڑھائیں اور اپنی چادر کے کناروں کو پلٹا، دائیں کو بائیں پر اور بائیں کو دائیں پر ڈالا، پھر ہاتھ پھیلا کر روتے ہوئے پروردگار قاضی الحاجات کے حضور دعا کی۔ ’’اے اللہ! ہم آپ سے

مغفرت طلب کرتے ہیں اور ہم آپ سے بارش کے طلبگار ہیں‘‘۔ ابھی آپ اپنی جگہ سے ہٹے نہ تھے کہ بارش ہونے لگی۔ کچھ دنوں کے بعد دیہاتی آئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے، اے امیر المومنین! دریں اثناء کہ ہم لوگ فلاں دن اور فلاں وقت اپنے دیہات میں تھے کہ اچانک ایک بادل ہم پر سایہ فگن ہونے لگا ہم نے اس میں یہ آواز سنی، اے ابوحفصؓ! مدد آ گئی، اے ابوحفصؓ مدد آ گئی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…