جمعہ‬‮ ، 09 جنوری‬‮ 2026 

حضرت عمرؓ کومنجانب اللہ الہام ہوتا تھا

datetime 23  مئی‬‮  2017 |

جمعہ کا دن تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو اپنی بلند آواز کے ساتھ وعظ و نصیحت کر رہے تھے، اچانک پکار کر کہنے لگے، اے ساریہ بن زنیم! پہاڑ پر ڈٹے رہو۔ اے ساریہ بن زنیم! پہاڑ پر ڈٹے رہو۔ جس نے بھیڑیے کو بکریوں کا نگران بنایا اس نے ظلم کیا۔

یہ بات آپ رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ فرمائی۔ لوگ حیران و سرگردان ہوئے اور بزبانِ حال کہنے لگے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو کیا ہوا؟ اور ساریہ بن زنیم یہاں کہاں؟ پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ منبر سے نیچے اترے، لوگ آپ کے ارد گرد جمع ہو گئے اور اس کا سبب پوچھنے لگے! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے دل میں یہ بات آئی کہ ہمارے بھائی ان مشرکین سے جنگ ہار رہے ہیں اور ہمارے مسلمان بھائی اس وقت ایک پہاڑ سے گزر رہے ہیں اگر وہ اس پہاڑ کی پناہ میں آ جائیں اور اس پر ڈٹ جائیں تو ایک ہی جانب سے ان کے ساتھ قتال کریں گے لیکن اگر وہ اس پہاڑ سے آگے نکل گئے تو مارے جائیں گے، اس لئے تم نے اس وقت دیکھا کہ میں نے ان کو پہاڑ پر جمے رہنے کا حکم دیا۔ ایک مہینہ گزرا تو یہ خوشخبری آ گئی کہ مشرکین شکست فاش سے دوچار ہو گئے۔ آنے والوں نے بتایا کہ ہم نے دوران جنگ یہ آواز تین مرتبہ سنی کہ اے ساریہ! پہاڑ پر جمے رہو۔ تو ہم نے اسی وقت پہاڑ کو اپنی پناہ گاہ بنا لیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست سے دوچار کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…