اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

بلیغ الارض کون تھے؟

datetime 4  مئی‬‮  2017 |

حضرت خبیب رضی اللہ عنہ مشرکین کی قید میں تھے ۔آپ رضی اللہ عنہ کو لوہے کے پنجرے میں قید کیا گیا تھا لیکن لوگوں نے انہیں انگور کے خوشے کھاتے ہوئے دیکھا حالانکہ اس وقت مکہ میں پھلوں کا موسم نہ تھا۔یہ اللہ کا دیا ہوا رزق تھا جو آپؓ عنہ تک پہنچتا تھا۔پھر مشرکین نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو سولی پر لٹکا کر شہید کردیا تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک اس کی خبر پہنچی۔ آپؓ کی لاش مشرکین ہی کے پاس تھی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاصحاب سے فرمایا کہ کون ہے جو خبیب کی لاش کو سولی پر سے اتار کر لائے؟ چنانچہ حضرت زبیررضی اللہ عنہ اور حضرت مقدادرضی اللہ عنہ نے اس کا م کو کرنے کی ہامی بھر لی اور روانہ ہو گئے۔وہ رات کو چلتے اور دن کو چھپے رہتے تھے۔یوں وہ اس سولی کےپاس پہنچ گئے جہاں چالیس محافظ موجود تھے۔وہ سب کے سب سو رہے تھے۔ان دونوں حضرات نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی لاش کو سولی پر سے اتار ا اور گھوڑے پر رکھا۔ اگر چہ آپؓ کو شہید ہوئے چالیس دن گزر چکے تھے لیکن ان کا جسم بالکل تروتازہ تھا۔زخموں سے خون ٹپک رہا تھا اور خون میں سے مشک کی سی خوشبو آرہی تھی۔صبح کے وقت جب قریش کو اس بات کی خبر ہوئی تو چاروں طرف تیز سوار دوڑادئیے گئے۔کچھ تیز سواروں نے آپ دونوں اصحاب رضی اللہ عنہ کو آلیا۔یہ دیکھ کر حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی لاش کوحضرت زبیررضی اللہ عنہ نے گھوڑے پر سے اتارکر زمین پر رکھ دیا۔لاش کو جونہی زمین پر رکھا گیا تو لاش کو زمین نگل گئی۔اسی لئے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو بلیغ الارض کہاجاتا ہے۔اس کے بعد حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کفار کی طرف منہ کر کے کہا کہ میں زبیر بن العوام ہوں اور حضرت صفیہ بنت عبد المطلب میری ماں ہیں اور یہ میرے رفیق مقداد بن الاسود رضی اللہ عنہ ہیں۔تمھارا جی چاہے تو تیروں،تلواروں اور نیزوں سے لڑیں اور چاہو تو لوٹ سکتےہو۔چنانچہ وہ کفار لڑے بغیر واپس لوٹ گئے۔

دونوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ واپس خدمت نبوت صلی اللہ علیہ وسلم ميں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا ماجرا کہہ سنایا۔اسی وقت جبرائیل بھی حاضر ہوئے اور کہا ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان دونوں اصحاب کی فرشتوں میں تعریف ہو رہی ہے۔”

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…