حضرت مالک بن اوس بن حدثان رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس روم کے بادشاہ کا ایک قاصد آیا۔حضرت عمر بن خطابؓ کی بیوی نے ایک دینا ادھار لے کر عطر خریدا اور شیشیوں میں ڈال کر وہ عطر اس قاصد کے ہاتھ روم کے بادشاہ کی بیوی کو ہدیہ بھیج دیا۔
جب قاصد روم پہنچاتو اس نے عطر کی وہ شیشیاں شاہ روم کی بیوی کو پیش کی کہ مسلمانوں کے خلیفہ کی بیوی نے آپکے لیے یہ تحفہ بھیجا ہے۔ شاہ روم کی بیوی کو حضرت عمر رضی اللہ تعالی کی بیوی کی یہ ادا پسند آگئی جب عطر ختم ہوا اور شیشیاں خالی ہوئی تو شاہ روم کی بیوی نے ان شیشیوں کو جواہرات سے بھر دیا اسی قاصد کو بلوایا اور کہا ’’جاؤ اور حضرت عمرؓ کی بیوی کو یہ تحفہ میری طرف سے دے دینا۔جب شیشیاں حضرت عمر رضی اللہ کی بیوی کے پاس پہنچی تو انہوں نے شیشیوں سے وہ جواہرات نکال کر بچھونے پہ رکھے اور پیار سے دیکھنے لگی کہ اتنے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ آگئے ۔آپؓ نے پوچھا ! کیا ہے یہ سب؟ جواب میں انکی بیوی نے سارا ماجرہ سنا دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی نے وہ تمام جواہرات اٹھائے اور بازار میں لے جاکر اسی وقت سب فروخت کردیئے۔ انکی تمام قیمت میں صرف ایک دینار اپنی بیوی کو دیا اور باقی ساری رقم بیت المال میں جمع کرادی۔ یہ تھی خلیفہ دوم کی سادگی، جس کی حکمرانی مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوئی تھی ۔



















































