جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے

datetime 22  مئی‬‮  2026 |

اسلام آباد(این این آئی)رواں ماہ پاکستان میں گرمی کی شدت معمول سے پہلے اور خطرناک انداز میں بڑھ رہی ہے،

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے حالیہ دنوں میں شدید ہیٹ ویوز اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب (GLOF) کے خطرات کے حوالے سے متعدد الرٹس جاری کیے ہیں۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق رواں سال مئی اور جون کے دوران ملک کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے جبکہ شمالی علاقوں میں بڑھتی ہوئی گرمی اور مغربی ہواؤں کے باعث گلیشیائی جھیلوں سے اچانک سیلاب کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں،چین اور پاکستان کے درمیان 75 سالہ تعلقات کے موقع پر دونوں ممالک کی دوستی کا ایک نیا اور شاید سب سے اہم پہلو موسمیاتی تعاون کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ یہ اس بات کی عملی مثال ہے کہ کس طرح دو دیرینہ شراکت دار عالمی موسمیاتی خطرات کے خلاف مشترکہ مضبوطی پیدا کر سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک ایسا ملک جہاں موسمیاتی آفات معمول بنتی جا رہی ہیں،سات ہزار سے زائد گلیشیئرز اور تین ہزار گلیشیائی جھیلوں والے ملک میں گرمی اور سیلاب الگ الگ واقعات نہیں بلکہ ایک ہی باہم جڑے ہوئے نظام کے حصے ہیں،بڑھتا ہوا درجہ حرارت گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار تیز کرتا ہے، پگھلا ہوا پانی غیر مستحکم جھیلوں کو پھیلاتا ہیاور شدید بارش اچانک ان جھیلوں کے پھٹنے کا سبب بن سکتی ہے، جس سے پانی وادیوں، دیہاتوں اور بنیادی ڈھانچے کی طرف بہہ نکلتا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ٹیکنیکل ڈاکٹر سید محمد طیب شاہ نے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں موسمیاتی تنوع انتہائی زیادہ ہے اور یہی چیز مختلف نوعیت کے موسمیاتی خطرات کو جنم دیتی ہے،ان کے مطابق شمالی پہاڑوں سے لے کر جنوبی ڈیلٹا تک پاکستان بیک وقت گلیشیائی جھیلوں کے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، شہری سیلاب، ہیٹ ویوز، جنگلاتی آگ، سمندری طغیانی اور سمندری پانی کی دراندازی جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان خطرات کی تعداد، شدت اور پیمانہ ہر گزرتے سال کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (پی ایم ڈی) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد افضل کروری موسمیاتی تبدیلی کے انسانی اثرات، خصوصاً نقل مکانی، پر زور دیتے ہوئے گلگت بلتستان اور بالائی خیبر پختونخوا کے ان حساس علاقوں کی نشاندہی کی جہاں تنگ وادیاں اور گلیشیئر سے نکلنے والے دریا معمولی غلطی کی بھی گنجائش نہیں چھوڑتے اور پورے دیہات کی نقل مکانی ملک کے لیے ایک مسلسل بحران پیدا کر رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق2025 کے سیلابی موسم کے دوران پی ایم ڈی نے کلاؤڈ بیسڈ ابتدائی وارننگ سسٹم کی مدد سے 15 سے 16 موسمی انتباہات جاری کیے۔ ڈاکٹر کروری کے مطابق جن وادیوں میں یہ آلات اور پیش گوئی کے نظام نصب تھے وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ان انتباہات کے پیچھے ایک کلاؤڈ بیسڈ پلیٹ فارم ہے جسے ماذو (MAZU) (ملٹی ہیزرڈ، الرٹ، زیرو گیپ، یونیورسل کوریج) کہا جاتا ہے۔ یہ اقوامِ متحدہ کے ”ارلی وارننگ فار آل”اقدام کے جواب میں چین کا تیار کردہ حل ہے۔ماذو (MAZU)کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ ممالک کو شدید موسمی حالات کی زیادہ درست پیش گوئی میں مدد دے سکے۔ یہ سیٹلائٹ نگرانی، مشاہداتی نیٹ ورکس اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈلز کو یکجا کر کے مختلف خطرات کی جامع پیش گوئیاں فراہم کرتا ہے، جن کی بنیاد پر بروقت اور مؤثر وارننگ جاری کی جا سکتی ہے۔ عالمی سطح پر آفات سے نمٹنے کی تیاری بہتر بنانے کے لیے چین نے پاکستان سمیت کئی موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک کے ساتھ اس نظام کے خصوصی ورژن مشترکہ طور پر تیار کیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کے لیے تیار کردہ ماذوں(MAZU )نظام ملک کے اہم موسمی خطرات جیسے شدید گرمی، طوفانی بارشوں، سیلاب اور زرعی موسمیاتی مسائل پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔چینی حکام کے لیے چیلنج صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں تھے۔رپورٹ کے مطابق چین کے محکمہ موسمیات کے نیشنل میٹرولوجیکل سینٹر میں گلوبل میٹرولوجیکل ڈویژن کی نائب ڈائریکٹر ڈاکٹر یانگ شونان نے کہا ہے کہ کچھ الگورتھمز مقامی حالات کے مطابق مکمل طور پر مؤثر نہیں تھے،

اس لیے ہم نے انہیں پاکستان کے لیے دوبارہ تیار کیا اور تربیت دی۔دوسرا بڑا مسئلہ ڈیٹا انضمام تھا،پاکستان کے مشاہداتی ڈیٹا کے فارمیٹس اور معیار میں بہت فرق تھا، جسے ایک متحدہ پیش گوئی کے نظام میں شامل کرنے سے پہلے ہم آہنگ کرنا ضروری تھا۔تیسرا مسئلہ انفراسٹرکچر کا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پلیٹ فارم کے فرنٹ اینڈ کو ہلکا رکھنے کی کوشش کی تاکہ مقامی حالات میں انٹرنیٹ کی رفتار اور نیٹ ورک کی محدود صلاحیت کے باوجود یہ مؤثر طریقے سے کام کر سکے۔رپورٹ کے مطابق نتیجتاً ایک ایسا ہائبرڈ نظام تیار ہوا جس میں زیادہ کمپیوٹنگ چین میں کی جاتی ہے جبکہ بہتر بنائے گئے نتائج کلاؤڈ بیسڈ نظام کے ذریعے پاکستان کو فراہم کیے جاتے ہیں، جو کم بینڈوڈتھ والے ماحول کے لیے موزوں ہے۔ڈاکٹر یانگ 2025 میں پاکستان میں پیش آنے والے ایک شدید سرد موسمی واقعے کا ذکر کرتی ہیں، جس میں بارش اور برفباری شامل تھی۔ مازو (MAZU )پلیٹ فارم کے ذریعے چین نے پاکستان کے ساتھ مل کر بارش کی پیش گوئی اور ابتدائی وارننگ کی فراہمی میں تعاون کیا، جسے مقامی ماہرین نے مؤثر انداز میں استعمال کیا۔رپورٹ کے مطابق یہ نظام خطرناک موسمی حالات کے دوران عددی ماڈلز اور ماہرین کی مشترکہ تشریح کی مدد سے حقیقی وقت میں ابتدائی وارننگ بلیٹن جاری کر سکتا ہے۔چین کے فینگ یون موسمیاتی سیٹلائٹس کی تصاویر بھی اس پلیٹ فارم میں شامل کی گئی ہیں۔ ایک خصوصی سیٹلائٹ ماڈیول پاکستان کے مقامی حالات کے مطابق بادلوں کی تصاویر، طوفانی نظام کی نگرانی، سیلابی نقشہ سازی، زرعی نگرانی اور سمندری موسمی مشاہدات فراہم کرتا ہے۔2025 کے مون سون سیزن کے دوران فینگ یون ڈیٹا نے سیلاب کے پھیلاؤ کے تجزیے سمیت آفات کے اثرات کے جائزے میں بھی مدد فراہم کی۔

رپورٹ کے مطابق یہ نظام زرعی خدمات تک بھی پھیل چکا ہے، جن میں خشک سالی کی نگرانی، فصلوں کی افزائش کا جائزہ اور پیداوار کی پیش گوئی شامل ہیں، یہ خدمات کاشتکاری کے پورے مرحلے، یعنی بیج بونے سے لے کر فصل کی کٹائی تک رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔چین کے محکمہ بین الاقوامی تعاون کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ژانگ شنگ ینگ کے مطابق یہ خدمات پاکستان کی غذائی سلامتی کے تحفظ اور کسانوں کی آمدنی کو مستحکم کرنے میں مدد دیتی ہیں، جو دیہی غربت میں کمی اور پائیدار ترقی میں معاون ہیں۔یہ تعاون چین کے موسمیاتی ادارے کی پیش گوئیوں کو بھی بہتر بنا رہا ہے۔ڈاکٹر ڑانگ کے مطابق پاکستان کا جغرافیہ گلیشیئرز، پہاڑوں، میدانوں اور صحراؤں پر مشتمل ہے، جہاں مختلف موسمی آفات پائی جاتی ہیں، جو کثیر خطراتی ابتدائی وارننگ ٹیکنالوجیز کے لیے ایک بہترین تجربہ گاہ فراہم کرتا ہے۔ڈاکٹر ڑانگ کے مطابق چین اور پاکستان کے درمیان موسمیاتی تعاون طویل عرصے سے عوامی فلاح، اقتصادی ترقی اور عالمی موسمیاتی حکمرانی سے جڑا ہوا ہے۔ رپور ٹ کے مطابق عالمی حدت میں مسلسل اضافہ مقامی موسمی واقعات کو عالمی خطرات میں تبدیل کر چکا ہے۔ ترقی پذیر ممالک اس بحران کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھا رہے ہیں جبکہ تکنیکی مہارت اور مالی وسائل کی کمی کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ چین پاکستان موسمیاتی تعاون موسمیاتی مضبوطی کے لیے جنوبـجنوب تعاون کا ایک عملی اور قابلِ تطبیق ماڈل پیش کرتا ہے۔دونوں ممالک ایشیائی مون سون خطے میں واقع ہیں اور سیلاب، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور شدید گرمی جیسے خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔

ڈاکٹر طیب شاہ کے مطابق یہ شراکت داری صرف دوطرفہ امداد تک محدود نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی سرحدوں سے بالاتر ایک عالمی مسئلہ ہے، اور یہ تعاون وسیع تر گلوبل ساؤتھ کے لیے ایک نمونہ بن سکتا ہے۔1980 کی دہائی سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون موسمی مشاہدات اور پیش گوئیوں کے تبادلے سے بڑھ کر سیٹلائٹ ریموٹ سینسنگ، مشترکہ تحقیق اور عملے کی تربیت تک پھیل چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ شراکت داری چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت موسمیاتی خدمات کے ذریعے آفات سے بچاؤ اور نقصانات میں کمی کی کوششوں کی بھی حمایت کرتی ہے۔ڈاکٹر ڑانگ کے مطابق یہ نظام اس لیے مؤثر ثابت ہو رہا ہے کیونکہ یہ بڑے انفراسٹرکچر کے بجائے لچکدار ماڈیولز اور کم لاگت حل پر توجہ دیتا ہے، جو مقامی حالات کے مطابق بہتر طور پر ڈھالے جا سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اسکرین پر ظاہر ہونے والا انتباہی پیغام اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب زمین پر اس کے مطابق عملی اقدامات کیے جائیں۔چین کے محکمہ موسمیات (CMA) اور پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے لیے یہ تعاون اب مزید ڈیجیٹل بنیادوں کی طرف بڑھ رہا ہے،دونوں ممالک مصنوعی ذہانت پر مبنی موسمیاتی ماڈلز اور شدید موسمی پیٹرنز کی اے آئی کے ذریعے شناخت پر مشترکہ تحقیق شروع کر رہے ہیں۔آفات سے نمٹنے سے آگے بڑھتے ہوئے یہ شراکت داری ایک جامع موسمیاتی خدماتی نظام کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ اس تعاون کو زراعت اور غذائی تحفظ، آبی وسائل کے انتظام، شہری موسمیاتی مضبوطی، فضائی موسمیات اور ماحولیاتی تحفظ تک وسعت دی جائے گی تاکہ اعلیٰ معیار کی سماجی و اقتصادی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق غیر یقینی عالمی موسمی حالات کے دور میں یہ موسمیاتی شراکت داری ثابت کر رہی ہے کہ مشترکہ مستقبل صرف ایک تصور نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت بن سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…