ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

ہیلمٹ

datetime 15  مارچ‬‮  2017 |

آج گھر سے نکلا تو دوپہر ہو چکی تھی سورج اپنی دہشت گردی پر اتر آیا تھا، گرمی میں بنا ہیلمٹ کے بائیک چلانا اور بھی محال ہو چکا تھا، سوچا ایک عدد ہیلمٹ خرید لیا جائے،ہیلمٹ کی دوکان پر گیا، شیشوں میں رکھے ہیلمٹ بہت ہی پرکشش لگ رہے تھے، ایک سپورٹ بائکرز کا ہیلمٹ پسند کیا ریٹ پوچھا سولہ سو روپے ،کم کراتے کراتے ایک ہزار چار سو تک میں سودا طے پا گیا، بٹوا نکالا پیسے دینے لگا پر پیسے کچھ کم تھے،

تو معذرت کر کے دوکاندار سے اے ٹی ایم کامعلوم کیا تو کہا روڈ کے اس پار جانا پڑیگا گھوم کر، خیر میں اے ٹی ایم سے کیش نکال کر واپس جانے لگا، تو روڈ سائیڈ پر ایک باریش بزرگ دھوپ میں ہیلمٹ کا اسٹال لگائے بیٹھا تھا۔میں ایک دم سے بادل نخواستہ رکنے پر مجبور ہوگیا، نیچے اترا سلام کیا، اور کہا کہ ‘‘بابا میں تو آگے دوکان سے ہیلمٹ خریدنے جا رہا تھا مگر آپکو اس عمر اور گرمی میں دیکھ کر نہ جانے کیوں دل نے کہا دوکان چھوڑو اس بابا سے خرید لوں’’ .بابا کے چہرے پر ایک چمک آ گئی اور آنکھیں نم ہو گئی کہ بیٹا بہت مہربانی !وہی ہیلمٹ جو دوکان میں چھوڑ آیا تھا بابا سے کہا کتنے کا ہے؟ بابا نے کہا بیٹا جو تیرا دل کرے دے دو، ویسے ہم گیارہ سے پندرہ سو کا بیچتے ہیں، پھر بھی بابا کچھ تو قیمت لگاؤ؟؟ بیٹا سچ کہونگا کیونکہ تم نے بات ایسی کی سات سو پچاس کی میری خرید ہے تم جو دل کرے دے دو، میں اسرار کرنے لگا کہ بابا ایسا نہیں ہوگا آپ بتا دیں، وہ بھی اسرار کرنے لگا،پھر میں نے ہزار کا نوٹ پکڑا دیا، تو اس وقت اور بھی حیرانگی ہوئی جب اس نے پھر سوال کیا کہ کتنے کاٹوں؟میں نے کہا بابا پورے بھی رکھ لو تو مجھے خوشی ہوگی دکھ نہیں، توبابا نے مجھے سو روپے واپس کر دیئے، مطلب چودہ سو روپے کی چیز نو سو میں دے دی،یہ چھوٹے لوگ بھی نا بہت بڑے دل والے ہوتے ہیں،

پر ہم کبھی انکے دل کے اندر اترنے کوشش نہیں کرتے،کبھی ان ٹھیلے والوں سے بھی خرید لیا کرو کچھ، یہ آپ سے اے سی کے پیسے نہیں لیتے، یہ آپ سے بجلی کا بل اور نوکروں کی تنخوا نہیں لیتے، یہ آپ سے دوکان کا کرایہ بھی نہیں لیتے’’لیتے ہیں تو بس صرف اپنے بچوں کیلئے دو وقت کی روٹی‘‘، صرف اس نیت سے خریداری کر لیا کرو کہ ایک محنتی غریب کے گھر کا دیا جلتا رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…