زونائشہ ابھی کچھ دیر پہلے بھابھی کے ساتھ شاپنگ کر کے آئی تھی گئی تو وہ صرف انکے کہنے پہ تھی مگر ساتھ اپنے بھی 2 سوٹ لے آئی تھی پہلی نظر میں کچھ بھی جو نظروں کو بھا جائے وہ زونائشہ عالم کے لیے چھوڑنا کیسے ممکن تھا۔ گھر آ کے اپنے سوٹ سب کے پاس باہر چھوڑتے ہوئے وہ شاور لینے چلی گئی تھی اور اب نہا کے گیلے بالوں کے ساتھ Lap Top
کو لے کے آلتی پالتی مارتے ہوئے صوفہ پہ بیٹھ گئی تھی۔ Facebook کھولتے ہوئے اسنے news feed پہ نظر دوڑائی اور پھر friend list دیکھنے لگی جو کہ بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ تم پھر اسے لے کے بیٹھ گئی، کتنی دیر میں چھوڑو گی اسکی جان؟ زبیدہ خاتون نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے وائیٹ کلر پہ میرون کڑھائی کا سوٹ پہنے گیلے بالوں کے ساتھ Laptop پہ نظریں جمائے زونائشہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ساتھ ہی اسکے خریدے گئے سوٹ شاپرز میں سے نکال کے بیڈ پہ رکھنے لگیں۔ بس ماما صرف پانچ منٹ۔ زونائشہ نے انھیں دیکھے بغیر مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ وہ دونوں ریڈی میڈ سوٹ تھے انھوں نے کپڑے رکھنے کے لیے الماری کھولی تو وہاں ان گنت کپڑے لٹک رہے تھے۔ “زونائشہ تمھیں کتنی بار کہا ہے فضول میں کپڑے مت لیا کرو،الماری دیکھو بھری پڑی ہے۔” وہ جانتی تھیں کہ زونائشہ کپڑوں کی کتنی شوقین ہے پھر بھی ہمیشہ کی سمجھائی بات دہرانے لگیں۔ “اچھا ماما اب یاد رکھوں گی” زونائشہ نے انھیں کپڑے لٹکانے کے لیے ہینگرز نکالتے دیکھا تو laptop چھوڑ کے انکی مدد کو آگئی۔ زبیدہ خاتون اسکی الماری میں لٹکے کپڑے غور سے دیکھتے ہوئے تین سوٹ نکال کے بیڈ پہ بیٹھ کے فولڈ کرنے لگیں۔ زونائشہ سمجھ گئی تھی کہ اب یہ سوٹ اسکی ملکیت سے گئے وہ کام کے لیے آنے والی آنٹی کو دے دیں گی جن کی بیٹیاں اسی کی ہم عمر تھیں۔
ماما یہ بہت فیورٹ ہیں میرے۔ اسکا نئے کپڑے ہینگ کرتا ہاتھ رک گیا۔ اچھا تو لاوُ پھر یہ نئے والے دے دو۔۔ان کا زیادہ ثواب ملے گا۔ وہ بھی ماں تھیں۔ اچھا دے دیں وہی۔ زونائشہ ابھی ایمان کی اس پختگی تک کہاں پہنچی تھی کہ جو چیز اسکی نئی اور پسندیدہ تھی وہ دوسرے کو دینے کے لیے بھی پسند کرتی۔ زبیدہ خاتون نے تینوں سوٹ تہہ لگا کے رکھے اور زونائشہ کا بازو سے پکڑ کے اپنے پاس بٹھا لیا۔ اللّہ ہر چیز کا حساب لے گا میری بیٹی۔ وہ سب جو ہم نے کیا۔ وہ سب جو ہم نے لیا، اپنے لیے اس دنیا میں اتنا کچھ اکٹھا کرو جن کا حساب آسانی سے دے سکو اور اپنے لیے اس حساب کو آسان بنائو” وہ بہت پیاری بات کہہ گئی تھیں اسے۔ اب جلدی آجائو کھانے کے لیے، وہ کمرے سے نکلنے سے پہلے بولیں وہ ماما کے نکلتے ہی پھر laptopp پکڑ کے بیٹھ گئی تھی مگر ان کے کہے سارے لفظ اس کے دل تک اتر گئے تھے۔اللّہ ہر چیز کا حساب لے گا ,وہ سب جو تم نے کیا۔ لفظ وہی تھے مگر انکے معنی میں اسے اپنے سوٹ نہیں مگر friend listt میں موجود کچھ ایسے لوگ دِکھ رہے تھے جسکی اجازت اسے اللّہ نہیں دیتا تھا۔۔جو کہ بس نام کے اسکی لِسٹ میں تھے مگر تھے تو سہی اور حساب انکا بھی کیوں دیتی وہ۔اس نے ان سب کو unfriend کر کے laptop بند کیا تو اسے لگا کہ اسکے ذہن اور اعمال پہ پڑا بوجھ کم ہو گیا ہے۔ اسے وہ خوشی اپنے دل میں محسوس ہو رہی تھی ,
جو اللّہ اپنی بات ماننے والوں کے دلوں میں بھر دیتا ہے ۔ اپنے والدین کے لیے صدقہ جاریہ بنیئے اور اپنی اولاد کے لیے جنت تک جانے کا راستہ۔۔۔”



















































