ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

جوتوں کا ’’عاق نامہ‘‘

datetime 15  مارچ‬‮  2017 |

بغداد میں ایک آدمی جس کا نام ابوالقاسم تھا‘ اپنے ایک جوتے کی وجہ سے مشہور تھا۔ وہ سات سال سے ایک ہی جوتا پہنتا تھاجس کی وجہ سے پیوند لگالگاکر جوتی بہت بھاری ہوچکی تھی۔ گاؤں کے تمام لوگ اْس کے جوتوں کو جانتے تھے۔ایک دن وہ نہانے کیلئے حمام کی طرف نکلے۔راستے میں اِس کا ایک دوست ملا۔ دوست نے اس سے کہا’ارے بھائی آپ مالدار آدمی ہے اپنے لئے نئے جوتے کیوں نہیں لیتے ہو؟

پھراس کے دوست نے کہا کہ اللہ نے چاہا تو وہ اْس کو لیکر دیں گے۔ابوالقاسم بہت خوش تھا۔ وہ حمام میں نہانے کے بعد جب باہر نکلا تو حمام میں اس کے پرانے جوتوں کے ساتھ ایک نیا جوڑا پڑا تھا۔ وہ ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور یہ سمجھ کر کہ شاید اس کے دوست نے لیکر یہاں رکھا ہے‘ پہن کر اپنے گھر چلے گئے۔چند دن بعد پتہ چلا کہ وہ جوتے قاضی صاحب کے ہیں۔ وہاں پر موجود لوگوں نے قاسم کے جوتے کو پہچان لیا پولیس کو اطلاع دی اور پولیس ان کے جوتے لیکران کے گھر میں داخل ہوگئی۔ ان کو جوتا چرانے کی جرم میں سزا ملی اور جرمانہ بھی ہوا۔ایک عرصے کے بعد وہ قید سے رہا ہوئے اور اپنے جوتے کو غصے سے قریبی دریا میں پھینک دیا۔کچھ دن بعد ایک شکاری دریا میں مچھلی پکڑنے گیا اور جھال میں جوتے نکل آئے۔ شکاری نے قاسم کے جوتے پہچان لئے اور ان کو لیکر ان کی گھر کی جانب گئے۔ ابوالقاسم گھرمیں نہیں تھے شکاری نے ان کے جوتوں کو کھڑکی سے اندر پھنکا۔ جوتے اندر سیدھے شیشے کے صندوق پر گرے اور وہ ٹوٹ گیا وہاں موجود کچھ شیشے کے سامان بھی ٹوٹ گئے۔جب وہ واپس آیا تو اس کی صندوق ٹوٹی ہوئی تھی۔سامان بکھرا پڑا تھا اور جوتا اس کے سامنے گویا ہنس رہا تھا،اس کو بہت غصہ آیا اور وہ رات کو ہمسائے کے گھر کے قریب ایک گھڑا کھود کر وہاں ان کو دفن کردی۔ اس دوران ہمسائے نے قاسم کو دیکھ لیا اور اِس شک میں

شاید وہ اس کا مکان کوگرانے کی کوشش کر رہے تھے یا کوئی تعویز دفن کررہے تھے۔  ہمسائے نے جوتا دیکھ کر ابوقاسم کوپہچان لیا اور حاکم کی عدالت میں لے گئے۔ عدالت میں قاضی نے آپ کو دوبارہ سزا دی اور جرمانہ کیا۔اِس دفعہ سزا کے بعد گھر آئے اور جوتے کو غصے سے چھت پر پھینک دیا۔ کچھ دن بعد ایک کتا چھت پر گیا اور جوتے کو منہ سے گرایا جو سیدھے نیچے ایک راہ گیر کے سر پر لگی۔

راہ گیر زخمی ہوا اور ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ لوگوں نے ابوالقاسم کے جوتے کو پہچان لیا اور اْن کو پکڑکر پھر عدالت کے حوالے کیا۔ عدالت نے سخت سزا دی اور جرمانہ کیا اور اْن کو سخت تنبیہ کی۔سزا کاٹنے کے بعد ابوقاسم گھر آئے اور وہی جوتے لیکر شہرکے قاضی کے پاس گئے اور حلف نامہ پیش کیا جس میں انہوں نے جوتوں کا ’’عاق نامہ‘‘ تحریر کیا تھا۔ قاضی کو انہوں نے عرضی پیش کی آئندہ میں اِن جوتوں کا ذمہ دار نہیں اور نہ ہی یہ میرے ہیں میں اِن سے لا تعلقی کا اظہار کرتا ہوں۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا کبھی آپ نے اس بارے میں سوچا ہے؟ اگر آپ کے پاس اللہ کی دی ہوئی دولت ہے تو ضرور اپنے لئے اور اپنے اہل وعیال کے ساتھ ضرورت مندوں کا بھی خیال رکھیں اس سے پہلے کہ دولت آپ کے لئے گلے کا کانٹا یا طوق ثابت ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…