ہال میں کْھسر پْھسر ہونے لگی۔کوئی کہہ رہا تھا کہ لڑکی اتنا جہیز لے کر جائے گی کہ لوگ دیکھتے رہ جائیں گے، مہنگی کار، اے سی ،چالیس تولے سونا،ایل سی ڈی،فریج اور ریفریجریٹر وغیرہ وغیرہ۔یہ سب آوازیں میرے کانوں میں درآمد ہو رہی تھی جن کوسن کر میں خوش ہو رہا تھا
اورمسکرا رہا تھا۔اب دیکھنا ہے کہ لڑکی حق مہر کتنا نام کروائے گی۔لڑکے کا سب کچھ ہتھیا لے گی۔یہ آواز سنتے ہی میری خوشی کی جگہ اداسی اور مایوسی نے لے لی،میں تو اداس ہونے والوں میں سے نہیں۔بلکہ مایوس کرنے والوں میں سے تھا،عورت کی تو کبھی عزت کی نہیں،اپنی بیوی کو ساری عمر تنگ کیا ،مارتا پیٹتا رہا۔گالیاں دیتا رہا۔چھوٹی چھوٹی بات پر فساد کھڑا کر دیتا۔ایک دفعہ کھانے میں نمک زیادہ تھا جو کہ ملازم کی غلطی تھی یہ جانتے ہوئے بھی میں نے اپنی بیوی کو دو دن کمرے میں بند کر دیااور بھوکا پیاسا رکھا۔ یہاں تک کے اس کو گنجا تک کر دیا۔صرف اس لیے کہ میں جس سے محبت کرتا تھا اس سے میرے باپ نے میری شادی نہیں ہونے دی اور اس بات کا بدلہ میں اپنی بیوی سے لیتا رہا،میری بیٹی مجھ سے انتہا کی نفرت کرتی ہے۔اْس کو ایسا کرنا بھی چاہیے کیونکہ میں نفرت کے قابل ہوں۔لیکن آج یہ اداسی کیوں؟یہ ملال کیوں؟قیصر صاحب!ج۔ی۔جی۔۔کتنا حق مہر لکھا جائے؟بیس تولے زیور لکھوا دوں ، بری میں جو چڑھایا ہے؟نہیں قمر صاحب میری بیٹی کو آپ کے بیٹے سے یہ سب نہیں چاہیے۔میں نے اپنی بیٹی کو سب کچھ دے دیا ہے۔بس عزت چاہیے۔اپنے بیٹے سے کہیں۔اپنی بیوی کو ساری زندگی عزت دے۔حق مہر میں لکھ دو۔



















































