گھر کے سب کام ختم کرنے کے بعد جب میں بستر پر سونے کی نیت سے آئی تو میرے 10 سالہ بیٹے نے کہا ماما میں کل مسجد میں فجر کی اذان دینا چاہتا ہوں۔میں تو حیرت سے دنگ ہی رہ گئی اور کچھ لمحوں کے لئے کچھ بول نا سکی۔پھر کہا بیٹا جلدی جلدی سو جاؤ صبح سکول جانا ہے یہ کہہ کر ماں بچے کو سلانے کی کوشش کرنے لگی
کچھ دیر پہلے جس بات کو لے کر وہ حیران ہوئی تھی اب وہ اس بات پر سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی کیوں کہ صبح بیٹے نے سکول جانا تھا پیپر قریب ہیں ،یہ ناہو رات دیر سے سونے کی وجہ سے صبح آنکھ نا کھلے اور سکول مس ہو جائے بچے کو سلاتے سلاتے وہ خود بھی سو گئی۔حقیقت میں صرف وہ ماں ہی نہیں بلکہ ہم سب غفلت کے اندھیروں میں سوئے ہوئے ہیں ۔آپ میں سے 99 فیصد لوگ میری اس مثال کو پڑھ کر سوچ رہے ہوں گےimpossible بچے تو یہ کہ نہیں سکتے اس کی 2 بڑی وجوہات ہیں ایک تو یہ زیادہ تر بچوں کو پتا بھی نہیں ہوتا ہے فجر کی اذان ہوتی بھی ہے اوراگر ہوتی ہے تو کتنے بجے ہوتی ہے یہ زیادہ بچے نہیں جانتے۔دوسری وجہ ہم نے کبھی مولوی لوگوں کو اتنی عزت دی ہے کب ہے کہ کوئی بچہ یہ کہے کہ ماما میں بڑا ہو کرقاری صاحب بنوں گا۔آج بچوں کو دینے کے لئے ماؤں کے پاس مثالیں ہیں بھی تو ان کی جو ڈاکٹر ،بینک منیجر یا دنیاوی اعتبار سے بڑ ے بڑ ے کام کرنے لوگ ہیں ۔ ہمارے اپنے نزدیک اگر عزت ہے تو بس انہی لوگوں کی۔یہ دین کا کام کرنے والے یہ تو بس وقت کو ضائع کرتے ہیں ،بڑا آیا دین کا کام کرنے والا،یہ تو خود برے کام کرنے والا ،اس کی تو اپنی اولاد اس کے کہے میں نہیں ۔
فلاں شادی میں تو اس نے بڑ ے فیشن کیے تھے ۔اب نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی۔یہ سب الفاظ ہم میں سے کچھ لوگ تو بولتے بھی ہیں اگر کوئی خود اللہ کے فضل سے اس برائی سے بچا بھی ہو تو کم از کم اس نے سنے تو ضرور ہوں گے۔یہ ہے سوچ اور الفاظ امت مسلمہ کے ۔جن کو اللہ نے پیغمبر انہ ذمہ داری دی۔اتنا بڑا شرف مگر افسوس کے ساتھ آج ہمارے نزدیک کسی بھی دنیا کے چند روپے کی خاطر نائٹ ڈیوٹی دینے والا تو قابل عزت ہے لیکن مسجد میں اذان دینے والے کی کوئی اہمیت نہیں۔آج کی ماں بیٹی کو اچھی بیوی ،اچھی بہو ،اچھی بیٹی بننے کو تو کہتی ہے لیکن وہ ذمہ داری جو اللہ نے ساری امت پر ڈالی کہ قرآن کا پیغام دوسروں تک پہنچانا اس کے بارے میں تو کوئی ماں نہیں بتاتی ۔بچوں کو سالانہ پیپر میں رات کو دیر تک پڑھا نے والی مائیں یہ تو فکر کرتی ہیں کہ اگر کوئی پوزیشن ناآئی تو دوستوں کو کیا منہ دکھاؤں گی اس بات سے غافل ہیں کہ اللہ کو کیا منہ دیکھنا ہے ۔بات صرف یہاں ختم نہیں ہوئی ۔دنیا کی تعلیم حاصل کرنا یا رزق حلال کمانے کے لئے محنت کرنا ،یا امتحان کے لئے پڑھنا غلط نہیں ہے ۔غلط تو یہ بات ہے کہ اگر پیپر ہوں تو رات جاگ کر پڑھنا ہمیں ٹھیک لگتا ہے لیکن اگر اللہ کی رحمت سے اگر کوئی بچہ نیک ہو
ہی جائے اور تہجد پڑھنے لگ جائے تو ہم سب سے پہلے یہی کہیں گے کہ بس پانچ نمازیں ہی فرض ہیں بیٹا یہ تم کس کام پر لگ گئی ہو،اپنے گھر بار کا خیال کرو،یہ تم کس رہ چل پڑی ہو؟کیا ہم لوگ آخرت کے حساب پر واقعی یقین رکھتے ہیں؟اور یہی ماں سکول میں خود جا کر کہہ رہی ہوتی ہے کہ کوئی فنکشن ہو تو میرے بچے کو بھی حصہ دلوانا اس میں confidence آئے ۔کیا یہ بات کسی بھی اسکول میں فرائض کے درجہ میں ہے پھر اس کے لئے اتنی فکرکیوں ؟جنت کے اعلی در جوں کے لئے محنت کرنا شدت پسندی اور دنیا کی ترقی کے لئے اپنی ذات کو بھول جانے والا کامیاب انسان ؟آج ہماری ماؤں کی فکر یہ نہیں کہ بیٹی late نائٹ تک فضول گپ شپ لگاتی ہے یا منگیتر کے ساتھ فون پر گھنٹوں باتیں کرتی ہے ۔آج کی ما ں کی فکرہے تو یہ کہ بیٹی کو پردہ کا شوق ہے ،آج کے دور میں کیسے ایڈجسٹ کرے گی۔عجیب منافقت ہے ہمارے رویوں میں،ایک طرف اللہ سے محبت کے دعوے اور دوسری طرف عمل اتنے کھوکھلے میری آپ سب سے گزارش ہے کہ آپ اپنے بچوں کو پڑھائیں لکھائیں ضرور لیکن ساتھ ان کو امت مسلمہ کی حیثیت سے عائد ہونے والی ذمہ داری بھی بتائیں۔دنیاوی چھوٹی چھوٹی کامیابی کے لئے بچوں کو مشقت میں ڈالنے والی مائیں بچوں کو دین کی خاطر قربانی کرنے والا بھی بنائیں ۔



















































