پیر‬‮ ، 26 جنوری‬‮ 2026 

خیرات اور تحفے دینے کے انتہائی حیران کن نتائج، ماہرین کا حیرت انگیز انکشاف

datetime 16  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگرآپ 5 سال تک لوگوں کی مدد کریں، استطاعت کے مطابق خیرات کریں یا عزیزوں کو تحفے دیں تو مزید زندہ رہنے کے امکانات 44 فیصد بڑھ جاتے ہیں۔کینیڈا کی یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا میں کی گئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ ایسے افراد جو خیر کے کام یا اپنے عزیزوں کو تحفے تحائف دینے کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیتے ہیں وہ بلڈپریشر سمیت ذہنی دباو¿ اور دیگر اس جیسی بیماریوں سے دور رہتے ہیں اور ایسے افراد کے زندہ رہنے کے امکانات 44 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں ایک سروے کیا گیا جس میں شریک رضاکاروں کا چار سال تک بلڈ پریشر نوٹ کیا گیا جب کہ تحقیق میں ہزاروں رضاکاروں نے پانچ سال تک حصہ لیا جس کے بعد انکشاف ہوا کہ جو افراد ہفتے میں چارگھنٹے رضاکارکے طور پرخیرکے کام کرتے رہے اورایک سال تک یہ سلسلہ جاری رکھتے رہے، چار سال بعد بھی ان کے بلڈ پریشر میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی اور ان کی صحت کی سطح برقرار رہی۔
ایک اور مطالعے سے معلوم ہوا کہ عوامی خدمت کے لیے وقت نکالنے والے افراد نہ صرف کم ذہنی دباو¿ کے شکار ہوتے ہیں بلکہ انہیں چلنے میں آسانی اور جسمانی قوت بھی برقرار رہتی ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیرات اورخدمت کے جسم اور ذہانت پربہتر اثرات مرتب ہوتے ہیں لیکن یہ اب بھی حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ اس کی وجہ صرف ہمدردی ہی ہے یا کوئی اور وجہ بھی ہے لیکن خدمت سے سکون اور ذہنی آرام کا تعلق ضرور دریافت ہوا ہے۔ دوسری جانب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جب بلڈ پریشرکے مریض افراد نے خیرات کرنا شروع کی تو چند روز میں ہی ان کا بلڈ پریشرمعمول پرآگیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…