ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

قیامت تک یہ تحمل باعزت رہے

datetime 2  دسمبر‬‮  2016 |

حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کی روایت ہے کہ ایک دن حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اﷲ علیہ مریدوں اور خدمت گاروں کے درمیان تشریف فرما تھے۔ آپ کے رعب و جلال کا یہ عالم ہوتا کہ لوگ دو زانو اور دست بستہ بیٹھے رہتے تھے۔ ان کی آنکھیں جھکی ہوتی تھیں اور کبھی کبھی اس قدر سکوت ہوتا تھا کہ حاضرین مجلس کی سانسوں کی آواز تک سنائی نہیں دیتی تھی۔ ایک دن ایک قلندر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی بارگاہ جلال میں حاضر ہوا۔ اس وقت بھی حاضرین کی یہی کیفیت تھی۔ اگر نیا آنے والا یہ منظر دیکھتا تو یہی تاثر قبول کرتا کہ وہ کسی باجبروت شہنشاہ کے دربار میں داخل ہوگیا ہے۔

قلندر نے خانقاہ میں داخل ہوتے ہی حاضرین پر ایک نظر ڈالی اور نہایت گستاخانہ لہجے میں حضرت شیخ سے مخاطب ہوا ’’فرید! یہ کیا تماشا ہے؟‘‘اگرچہ قلندر کی آواز نہایت کرخت تھی لیکن حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنی روایتی شیریں کلامی کے ساتھ فرمایا ’’مہمان! تم کس تماشے کی بات کررہے ہو؟‘‘’’یہی کہ تونے اپنے آپ کو بت بناڈالا ہے اور لوگوں سے اپنی پرستش کراتا ہے‘‘ اس بار بھی قلندر کے لہجے میں گستاخی کا وہی رنگ نمایاں تھا۔’’میں تو ایک بندہ عاجز ہوں۔ جو کچھ بنایا ہے، خدا نے بنایا ہے‘‘ قلندر کے سوال کے جواب میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔’’نہیں! تونے خود اپنے آپ کو بت بنایا ہے‘‘ قلندر کے لہجے کی کرختگی کا وہی عالم تھا۔’’ہرگز نہیں۔۔۔‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے کمال انکسار کے ساتھ فرمایا ’’دنیا کا کوئی شخص اپنے آپ کو کچھ نہیں بناسکتا مگر حق تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے سرفراز کردیتا ہے‘‘قلندر نے ایک نظر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا۔ کچھ دیر کھڑا رہا اور پھر باآواز بلند کہنے لگا ’’شیخ! آپ کے صبروتحمل پر ہزار آفرین۔ جب تک دنیا باقی ہے، یہ تحمل باعزت رہے‘‘ یہ کہہ کر وہ قلندر چلا گیا۔

اہل نظر کا خیال ہے کہ وہ قلندر مردان غیب میں سے تھا۔ آٹھ صدیاں گزر گئیں مگر وہ تحمل آج بھی باعزت ہے اور اس عزت میں قیامت تک اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…