منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

چولستان۔۔۔صحرائی حسن کا شاہکار

datetime 3  مئی‬‮  2015 |


چولستان جسے مقامی زبان میں روہی کہا جاتاہے‘ بہاولپور سے 30کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ چولستان ترکی زبان کا لفظ ہے۔ ترکی زبان کے لفظ چول سے نکلا ہے جسکا مطلب صحرا ہے۔ یہاں کے مقامی لوگ خانہ بدوشوں کی زندگی گزارتے ہیں اور اپنے مویشیوں کی خوراک اور پانی کیلئے ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی کرتے رہتے ہیں۔ کسی زمانے میں اس علاقے میں دریائے ہاکڑہ بہتا تھا جس کی بدولت سبزہ اور ہریالی پائی جاتی تھی۔یہاں کے لوگوں کی مقامی زبان سرائیکی ہے۔ چونکہ لوگ خوراک اور پانی کی تلاش میں دور دراز علاقوں میں نکل جاتے ہیں اس لئے ان کی زبان میں ان علاقوں کی مقامی زبانوں کا اثر بھی دکھائی دیتا ہے۔ چولستان کا صحرا 16000مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ جو ایک جانب سندھ میں تھر سے جا ملتا ہے۔ جنوبی پنجاب کا یہ سب سے بڑا صحرا پنجاب کے تین اضلاع بہاولنگر‘ بہاولپور اور رحیم یار خان تک پھیلا ہوا ہے جبکہ اس کا زیادہ حصہ بہاولپور ضلع میں واقع ہے۔ اس کی لمبائی 480 کلومیٹر اور چوڑائی 32سے 192کلومیٹر ہے۔ صحرا میں بسنے والی مقامی آبادی لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ مویشیوں کی تعداد 13لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے۔ جن میں زیادہ تر اونٹ اور بھیڑ بکریاں کثرت سے ہیں۔ زیر زمین پانی بہت کم پایا جاتاہے۔ چولستان میں قلعہ دراوڑ‘ ڈیرہ نواب صاحب سے 48کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جو آج بھی اچھی حالت میں موجودہے ۔جس کی حفاظت کیلئے امیر بہاولپور کے گارڈز تعینات ہیں۔ قلعہ کے اندر بہاولپور کے حکمرانوں اور ان کے خاندان والوں کے مزار ہیں جنہیں خوبصورت نیلے رنگ کی ٹائیلوں سے مزین کیا گیا ہے۔یہ قلعہ سن 1733ء میں تعمیر کیا گیا تھا جس کی دیواریں پتھر کی بنی ہوئی ہیں جنہیں دیکھ کر کوئی بھی فن تعمیر کی داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس قلعہ کا صبح اور غروبِ آفتاب کے وقت کا منظرقابل دید ہے۔ چولستان کے صحرا میں دریائے ہاکڑہ جسے دریائے گھاگربھی کہا جاتا تھا کے علاوہ تقریباً چار سو کے قریب آثارِ قدیمہ پائے جاتے ہیں جنکا تعلق وادی سندھ کی ساڑھے چارہزار سال قدیم تہذیب سے بتایا جاتا ہے۔ پورے سال میں اوسطاً پانچ انچ بارش ہوتی ہے۔ یہ صحرا پاکستان کی سرحدوں کو پار کر کے ہندوستان کے صوبے پنجاب ‘ ہریانہ‘ راجستھان اور گجرات تک پھیلا ہوا ہے۔ یہاں سے 75کلومیٹر کے فاصلے پر اُوچ شریف واقع ہے جو کسی زمانے میں اولیاء کرام کا مسکن رہا ہے ۔ یہاں حضرت جلال الدین سرخ بخاریؒ ‘ مخدوم جہانیاں جہانگشتؒ ‘حضرت بہاول علیمؒ ‘شیخ سیف الدین غزرونی ؒ اور بی بی جوانڈی کے مشہور مزارات آج بھی موجود ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…