جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

قدرتی آفات سے سپلائی چین میں خلل پڑنے سے اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا شہبازشریف

datetime 23  جون‬‮  2023 |

پیرس(این این آئی)وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ عالمی برادری کو شرم الشیخ میں کوپ۔27 میں کئے گئے وعدوں کو پوراکرنا چاہیے، قدرتی آفات سے سپلائی چین میں خلل پڑنے سے اجناس کی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافہ ہوا،معاشی نمو رک گئی، دنیا کو موجودہ معاشی اور موسمیاتی انتشار کواصلاح کے موقع کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔

جمعہ کو اپنے ٹویٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ ایک نئے عالمی مالیاتی معاہدے کے لیے سربراہی اجلاس کے موقع پر میں نے اپنی بات چیت کے دوران عالمی رہنماؤں کی توجہ ان خارجی عوامل کی طرف مبذول کرائی جس سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے شدید بحران پیداہوا۔انہوںنے کہاکہ ان عوامل کی وجہ سے ترقی رک گئی، سپلائی چین میں خلل پڑنے سے اجناس کی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ، پھر شدید موسمی واقعات میں سے بد ترین سیلاب آیا جس سے پاکستان کو 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ انہوں نے کہاکہ عالمی برادری کو شرم الشیخ میں کوپ۔ 27 میں کئے گئے وعدوں کو پورا کرنا چاہیے، جس میں مساویانہ مالیاتی اصول پر لاس اینڈ ڈیمج فنڈ کو فعال کرنا ، ایسی گرانٹس کی فراہمی جو ترقی پذیر ممالک کے بھاری قرضہ میں اضافہ نہ کریں اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کے خطرے سے دوچار ممالک کو ماحولیاتی خطرے کے انڈیکس کی بنیاد پر فنڈ تک رسائی کے قابل بنانا شامل ہے۔پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول کے لیے مالیاتی فرق کو پورا کرنے میں ناکامی کے ساتھ ساتھ موسمیاتی اہداف کو حاصل کرنے کے لئے دنیا کو بھاری قیمت ادا کرناپڑ رہی ہے، جو کہ سالانہ کھربوں ڈالر ہے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا کو موجودہ معاشی اور موسمیاتی انتشار کواصلاح کے موقع کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔عالمی مالیاتی ڈھانچے پر دوبارہ غور اس کا نقطہ آغاز ہو سکتا ہے جہاں آئی ایف آئیز اپنے پروگراموں کو ترقی کے حامی اورایس ڈی جیز اور موسمیاتی انصاف کے اہداف کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے ڈیزائن کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا کو اس وقت حقیقت سے آگاہی کے لمحے کا سامنا ہے، آئیے ہم سب یکجہتی اور ہمدردی کے جذبے کے ساتھ چیلنج کا مقابلہ کرنے کا عہد کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…