ہفتہ‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2025 

ؐلاہور میں90لاکھ لٹر زہریلے دودھ کی یومیہ فروخت کا انکشاف

datetime 18  جون‬‮  2023
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کاہنہ(این این آئی)صو بائی دارالحکومت میں 90فیصد سے زائد شہری کیمیکل ملا زہریلا دودھ پینے یا بچوں کوپلانے پر مجبور ہیں۔ 56لاکھ لیٹر سے زائد پاؤڈر کیمیکل ملا دودھ روزانہ 40سے 200کلو میٹر کے فاصلے سے ٹینکرز میں لاد کر شہر میں لایا جاتا ہے اور یہ پاؤڈر ملک ہر طرح کے کیمیکل ٹیسٹ کے بعد مضر صحت اور غیر معیاری ثابت ہو چکا ہے۔

شہر میں سجی ہزاروں دودھ کی دکانوں میں شیر فروش موت فروخت کر رہے ہیں۔ فو ڈاتھارٹیز ، مارکیٹ کمیٹیوں ، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور پیور فوڈ ایکٹ ادارہ بھی شہریوں کو خالص اور معیاری دودھ کی فراہمی میں ناکام ہو کر رہ گئے ہیں۔ عدالت عظمی کے احکامات کے باوجو د بھی ذمہ داروں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی محض ہزاروں لیٹر دودھ قبضے میں لیے جانے اور ضائع کر نے پر ہی اکتفا کیا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق صو بائی دارالحکو مت میں گھروں میں استعمال کے لئے اور مٹھائیاں وغیرہ تیا ر کرنے کے لئے 90لاکھ لیٹر دودھ روزانہ لایا جاتا ہے جس میں کیمیکل ، سنگھاڑے کا پاؤ ڈر ،فارمالین اور دیگر کیمیکلز استعمال کیا جاتا ہے۔ دددھ کی کوالٹی یوں دکھائی دیتی ہے کہ وہ پتلا نہیں بلکہ جھاگ کے ساتھ گاڑھا ہوتا ہے۔ کیمیکل ملے دددھ کی تیاری لاہور کے مضافاتی علاقوں میں قائم فیکٹریوں میں کی جاتی ہے جسے ہر روز مارکیٹ میں بکنے کے لئے لایا جاتا ہے۔اس کیمیکل ملے دودھ کی کوالٹی ہوتی ہے کہ وہ چوبیس گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی خراب نہیں ہوتا اور اس کی رنگت میں بھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ یہ دودھ 50روپے میں بھی فروخت کیا جاتا ہے۔ سستا ہونے کے باعث لوگ اسے وافر مقدار میں خرید کر لے جاتے ہیں جس کے باعث وہ دن بہ دن مختلف بیماریوں کا شکار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سخت اقدامات اٹھائے تاکہ صحت مند معاشرے کا وجود ممکن ہو سکے۔ممتازغذائی ماہر ڈاکٹر رضوان سرور نے میڈیا نما ئندگان سے گفتگو کر تے ہوئے کہا ہے کہ ملاوٹ شدہ خوراک اور کیمیکل ملا دودھ کا استعمال انسانی زندگی کے لئے زہرقاتل ہے۔انھوں نے کہا کہ خالص دودھ بھی زہر کی مانند ہے کیو نکہ گوالے دودھ کی مقدار زیادہ لینے کے لیے آکسی ٹو سن ٹیکے کا استعمال کرتے ہیں۔

یہ انجکشن بھینس کی نسوں میں شامل ہو کر ہڈیوں میں موجود دودھ کے ریشوں کو بھی باہر نکا ل دیتا ہے اور یہ دودھ خالص ہونے کے باوجود زہر آلود ہو جاتا ہے جس کے استعمال سے خصو صا چھوٹے بچے مختلف بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کیمیکل ملے دودھ یا اس سے تیار کی جانے والی اشیاء کا استعمال انسان کے نظام انہضام کو بری طرح نقصان پہنچاتا ہے جس سے انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر جلد موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ ڈاکٹررضوان سرور نے کہا کہ حکو مت وقت کو چاہئے کہ انسانی صحت کی بقا کے لئے دودھ سمیت بنیادی کھانے پینے کی اشیاء کے معیار میں سو فیصد تک بہتری لائی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…