بیجنگ(این این آئی)چین کے وزیر خارجہ چِن گینگ نے بیجنگ میں اپنے فلسطینی ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین مسئلہ فلسطین کو بہت اہمیت دیتا ہے اور امن مذاکرات کی حمایت جاری رکھے گا۔غیرملکی خبررساں ادارے نے بتایاکہ چین کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق انھوں نے فلسطینی وزیرخارجہ ریاض المالکی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی بحالی کے لیے ان کے منصفانہ نصب العین کی ہمیشہ بھرپور حمایت کی ہے۔
فلسطینی صدر محمود عباس تین روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ میں ہیں جس میں وہ یہ ظاہر کرنے کی امید رکھتے ہیں کہ فلسطینی ریاست کے لیے چین کی حمایت موجود ہے۔وہ گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران میں نیویارک یا واشنگٹن میں امریکی حکام سے ملاقات میں ناکام رہے تھے۔فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق محمود عباس کے چین کے پانچویں دورے میں وہ صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے جس میں فلسطین نصب العین پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور باہمی دل چسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بات چیت کی جائے گی۔چین کے فلسطینیوں کے ساتھ تاریخی طور پر ہمیشہ بہتر تعلقات استواررہے ہیں اور 2017 میں محمود عباس کے آخری دورے کے بعد سے وہ مسلسل ثالثی میں اپنی صلاحیتوں کے بارے میں بات کرتا رہا ہے۔اس کی ثالثی کے نتیجے میں مارچ میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان حیرت انگیز معاہدہ طے پایا تھا اور اس طرح چین نے اپنے مفاہمتی کردار کو بھی اجاگرکردیا تھا۔چینی سفیریا ایلچی کبھی کبھار اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کا دورہ کرتے ہیں لیکن چین نے روایتی طور پر مشرقِ اوسط کے تنازعات یا سفارت کاری میں اہم کردار ادا نہیں کیا ہے، باوجود اس کے کہ وہ تیل کے لیے خطے پر انحصار کرتا ہے۔صدر عباس کے اقتصادی مشیر محمد مصطفی کے مطابق چین فلسطینی علاقوں میں اپنی اقتصادی موجودگی میں اضافہ کرنے کو تیار ہے اور دونوں فریق اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے میں چار منصوبوں پر اصولی طور پر متفق ہو چکے ہیں۔
مصطفی نے فلسطینی ٹیلی ویژن پر کہاکہ امید ہے،اس ضمن میں ابتدائی دست خط (بدھ کو) دونوں صدور کی موجودگی میں ہوں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ ان منصوبوں میں شمسی توانائی کی تنصیب، شمسی پینل کی پیداوار کے لیے ایک فیکٹری، ایک اسٹیل پلانٹ اور سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی شامل ہیں۔