پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

ویڈیو بنانے کے لیے بھوتوں کا روپ دھارے لوگوں کو دیکھ کر بچہ جاں بحق

datetime 14  مئی‬‮  2023 |

خرطوم (این این آئی )سوشل میڈیا پر تفریح فراہم کرنے کے چکر میں لبنان میں ایک اور موت کا واقعہ پیش آگیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان کے جنگلی شہر ٹائر کے ایک قلعہ میں رہائش پذیر 7 سال کے بچے محمد حیدر استنبولی کی موت ہوگئی۔ شدید اعصابی جھٹکے کے نتیجے میں اس کے دل کے پٹھوں اچانک رک گئے تھے۔

نوجوان چچا نے واضح کیا کہ فرانزک ڈاکٹر کی رپورٹ نے اس بات کی تصدیق کی کہ بچے کی موت شدید صدمے کے نتیجے میں ہوئی جس کا اسے سامنا تھا۔اہل خانہ، پڑوسیوں اور علاقے سے عینی شاہدین کے بیانات پر غور کریں تو چھوٹا بچہ معمول کے مطابق علاقے میں کھیل رہا تھا کہ اچانک نوجوانوں اور خواتین کا ایک گروپ اس کے سامنے آ گیا جو بظاہر ایک ویڈیو بنا رہے تھے جسے سوشل میڈیا پر دکھایا جانا تھا۔ تاہم یہ گروپ خوفناک انداز میں ویڈیو بنا رہا تھا۔نوجوانوں اور لڑکیوں کے گروپ کے افراد اچانک بچے کے سامنے نمودار ہوئے اور انہوں نے سر سے پاں تک کالے کپڑے پہن رکھے تھے۔ یہ خوفناک انداز میں لوہے کی تلواریں لہرا رہے تھے۔ یالا پکچرز کے مطابق سات سالہ بچے نے جیسے ہی یہ منظر دیکھا وہ گھبرا گیا، اس پر اعصابی جھٹکے کے آثار نمایاں ہونا شروع ہو گئے اور خوف سے اس کے دل کے پٹھے براہ راست بند ہو گئے۔خیال رہے بچے کے والد حیدر استنبولی نے حکام کے پاس جا کر اپنے بیٹے کی موت کے ذمہ داروں کے خلاف براہ راست شکایت درج کرا دی ہے۔ تاہم اس واقعہ نے سوشل میڈیا پر شدید غم و غصہ کو پھیلا دیا ہے۔ لوگوں نے ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین سزاں کا مطالبہ کیا ہے۔نوجوانوں کے اس گروپ نے سکیورٹی سروسز کو مطلع کیے بغیر اور لائسنس اور فلم بندی کے اجازت نامے حاصل کیے بغیر فلم بندی شروع کی تھی جس کا نتیجہ ایک بچے کی موت کی صورت میں نکلا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…