جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دینے کے بجائے شہباز شریف کو استعفیٰ دینا چاہیے’شیخ رشید

datetime 13  مئی‬‮  2023 |

لاہور ( این این آئی) سربراہ عوامی مسلم لیگ وسابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ عدلیہ نے ملک کو انارکی اور خانہ جنگی سے بچایا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں شیخ رشید احمد نے لکھا کہ ساری قوم عظیم فوج کے ساتھ کھڑی ہے

فوج کسی دکھاوے کی ریلیوں کی محتاج نہیں ہے، فوج بھی چاہتی ہے خزانہ لوٹنے والے اور منی لانڈرنگ کرنے والے آئین و قانون کے ریڈار میں آئیں، ملک کی لوٹی ہوئی دولت ملک واپس آئے۔انہوں نے کہا کہ عوام جیت گئی سازشی ہار گئے، سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دینے کے بجائے شہباز شریف کو استعفیٰ دینا چاہیے، ووٹ بیچنے والوں کو سکیورٹی مل سکتی ہے تو الیکشن کے لئے بھی سکیورٹی مل سکتی ہے۔سربراہ عوامی مسلم لیگ کا کہنا تھا کہ 1997ء میں سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والے یاد رکھیں یہ 2023ء ہے جب دلیل ختم ہوتی ہے تو حکومت کے ذلیل ہونے کا وقت آ جاتا ہے، قوم حکومت سے نفرت کرتی ہے، مہنگائی، بیروزگاری کے ہاتھوں تنگ ہے۔سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کھٹائی میں ڈیفالٹ کی تلوار سر پر لٹک رہی ہے، حکومت ہر روز اپنے پاں پر خود کلہاڑی مارتی ہے، مارشل لا اور ایمرجنسی کی خواہشیں دم توڑ گئیں، عدالت کا فیصلہ بھانپ کر دھرنے کا سانپ نکالا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…