جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

دنیا بھر میں ہر 7سیکنڈ میں زچہ و بچہ کی موت کاانکشاف

datetime 12  مئی‬‮  2023 |

مکوآنہ (این این آئی)عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری ایک نئی رپورٹ میں کہا گیاہے کہ 2015 کے بعد سے عالمی سطح پر دورانِ حمل اموات میں کمی میں پیشرفت رکی ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ہر سال 45 لاکھ ماؤں اور بچوں کی دورانِ حمل، دورانِ پیدائش یا پیدائش کے ایک ہفتے بعد موت واقع ہوجاتی ہے

یہ تعداد ہر سات سیکنڈوں میں ہونے والی ایک موت کے برابر ہے۔اقوامِ متحدہ کی ایجنسی نے ایک بیان میں بتایا کہ جن اسباب سے اکثریت اموات واقع ہوتی ہیں اگر مناسب دیکھ بھال میسر ہو تو ان سے بچا جاسکتا ہے۔عالمی ادارہ صحت سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر آنشو بینرجی نے پریس ریلیز میں کہا کہ دنیا بھرمیں ناقابلِ قبول بلند شرح سے حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی اموات کا سلسلہ جاری ہے اور کووڈ-19 وباء نے ان کو صحت کیحوالے سے ضروریات مہیا کرنے میں مزید مشکلات پیدا کی ہیں، گزشتہ آٹھ سالوں میں بقا کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔رپورٹ میں لگائے گئے اندازے کے مطابق ہر سال دو لاکھ 90 ہزار خواتین کی حمل کے سب پیش آنے والی پیچیدگیوں سے موت واقع ہوتی ہے، 19 لاکھ بچوں کی موت دورانِ حمل(28 ہفتوں کے حمل کے بعد) واقع ہوجاتی ہے اور 23 لاکھ نوزائیدہ بچے پیدائش کے ایک مہینے کے اندر ہی جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…