جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

آٹا غریب کی پہنچ سے دور ہو گیا ، مہنگائی کی وجہ سے عوام خود کشیاں اور اپنے جگر گوشوں تک کو فروخت کرے پر مجبور ہو گئے

datetime 7  مئی‬‮  2023 |

حیدرآباد(این این آئی)آٹا بھی غریب کی پہنچ سے دور ہو گیا ہے ، مہنگائی کی وجہ سے عوام خود کشیاں اور اپنے جگر گوشوں تک کو فروخت کرے پر مجبور ہو گئے ہیں، جماعت اسلامی حیدرآباد بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف 8 جنوری کو بعد نماز عصر اورنگزیب مسجد گاڑی کھاتہ پر احتجاجی مظاہرہ کر ے گی۔امیر جماعت اسلامی ضلع حیدرآباد عقیل احمد خان نے کہا ہے کہ حیدرآباد سمیت سندھ بھر میں عوام آٹے کے لیے پریشان ہورہی ہے

حکومت اور ضلعی انتظامیہ کا خاموش رہنا سمجھ سے بالاتر ہے انہوں نے کہا کہ شہری آٹے کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں سستا آٹا اسٹالز کے نام پر لوگوں بالخصوص بزرگ مرد و خواتین کی تذلیل کی جاتی ہے عوام کئی کئی گھنٹوں آٹے کی حصول کے لیے لائنوں میں کھڑے آٹا آنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں، حیدرآباد میں 140روپے کلو تک آٹا فروخت کیا جا رہا ہے، مافیا کی جنگ میں عوام پس گئے، آٹے اورگندم جیسی بنیادی ضرورت کے بدترین بحران سے عوام ذہنی اذیت کا شکار ہیں، انہوں نے کہا کہ آٹے کی قیمتوں میں اضافہ حکومتی نا اہلی اور غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے،

گیس بجلی اور آٹے کی قیمتوں میں اضافہ سے مہنگائی کے طوفان نے عوام کا جینا مشکل بنادیا ہے جس سے نجات کے لئے عوام خود کشیاں کرنے پر مجبور ہیں، سندھ ایک زرعی صوبہ ہے مگر کرپٹ انتظامیہ کی وجہ سے عوام آٹے کے بحران و قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے دوہرے عذاب میں ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند اور آٹے کا مصنوعی بحران پیدا کر کے ناجائز فائدہ اٹھانے والے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کاروائی کرے اس کے برعکس ضلعی انتظامیہ سستا آٹا فی کلو 65 روپے 10 کلو آٹے کے لاکھوں تھیلے عوام میں فروخت کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے جو عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان کے زخموں پر نمک پاشی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…