ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

ہندوستان کا بٹوارا انگریزوں کا فراڈ تھا: سابق بھارتی جج مرکنڈے کاٹجو

datetime 8  اپریل‬‮  2023 |

لندن(این این آئی)بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مرکنڈے کاٹجو نے عالمی خبررساںادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ ہندوستان کا بٹوارا انگریزوں کا فراڈ تھا، اسے آگے چل کر ہم پھر ایک کریں گے،مرکنڈے کاٹجو جو کہ انڈیا ری یونیفیکیشن ایسوسی ایشن کے پیٹرن بھی ہیں۔

اس غیر سرکاری تنظیم کا مقصد انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش کو پْرامن طریقے سے ایک سیکولر حکومت کے تحت پھر سے ایک کرنا ہے۔سابق جج نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کو دہرایا کہ پاکستان اور انڈیا ایک ہی ہیں۔ ‘میرا موقف صاف ہے کہ ہندوستان اور پاکستان ایک ملک ہیں۔ یہ جو بٹوارا ہوا تھا، وہ انگریزوں کا فراڈ تھا۔ اسے آگے چل کر ہم پھر ایک کریں گے کیونکہ ہمارا کلچر ایک ہے۔ ہم لوگ مغلوں کے زمانے سے ایک تھے، دیکھنے میں ایک ہیں، بات چیت میں ایک ہیں۔’یاد رہے جج حالیہ دنوں میں پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بیانات کی وجہ سے توجہ کا مرکز بھی بنے ہوئے ہیں اور تنقید کی زد میں بھی ہیں۔نواز شریف، مریم نواز اور پی ڈی ایم پر ذاتی حملوں سے لے کر سپریم کورٹ کو قانونی مشورے دینے والے اور سیاسی تبصرے کرنے والے جسٹس مرکنڈے حالیہ دنوں میں کافی فعال اور متنازع رہے ہیں۔28 مارچ کو انھوں نے پاکستان کے آئین کو ہی ‘مذاق’ قرار دے دیا جبکہ 29 مارچ کو انھوں نے پاکستانی عوام کو مشورہ دیا کہ وہ پی ڈی ایم اور الیکشن کمیشن کے گھروں اور دفاتر کے باہر دھرنا دے کر 30 اپریل کو الیکشن کروانے پر مجبور کر دیں ورنہ ‘خود کو مرد نہ کہلائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…