اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

پاکستان چھوڑنے کی خواہش رکھنے والے نوجوانوں میں غیرمعمولی اضافہ روزانہ بڑی تعداد میں نوجوان پاسپورٹ بنوانے کیلئے درخواستیں جمع کرانے لگے

datetime 26  مارچ‬‮  2023 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان میں 64 فیصد آبادی کی عمر 30 برس سے کم ہے ۔ ہر سال 40 لاکھ نوجوان روزگار کی عمر میں داخل ہوتے ہیں جن میں سے صرف 39 فیصد کو روزگار نصیب ہوتا ہے ۔نجی ٹی وی ایکسپریس کے مطابق تقریباً نصف پاکستانی نوجوانوں کے پاس تعلیم ہے نہ ہی روزگار اور نہ ہی انھیں کوئی ٹریننگ ملتی ہے۔ایسے میں انھیں پاکستان میں رہتے ہوئے

اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ وہ بیرون ملک جانے کے خواب دیکھنا شروع کردیتے ہیں ، چاہے وہ غیر ملک اٹلی یا ایسا ہی کوئی دوسرا ملک کیوں نہ ہو ، جو خود معاشی بحرانوں کا مسلسل شکار ہے۔تاہم پاکستان چھوڑنے کے خواب دیکھنے والے کہتے ہیں کہ معاشی بحرانوں میں گھرے غیر ملک بھی پاکستان سے بہتر ہی ہوں گے ۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے برسوں سے نوجوانوں میں ملک چھوڑ کر بیرون ملک جانے کا رجحان زور پکڑتا جا رہا ہے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ پڑھے لکھے اور ہنر مند نوجوان بھی ملک میں رہنے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ بھی حالات سے سخت مایوس ہو رہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟ ان کی مایوسی سے پاکستان کو کیا نقصان پہنچ رہا ہے ؟ اور ان کی مایوسی کا علاج کیا ہے؟حالیہ ایک سروے کے مطابق ہمارے پاسپورٹ ڈائریکٹوریٹ کو2021 ء سے ایک خطرناک رجحان دیکھنے کو ملا ۔ رجحان یہ ہے کہ ہمارا پاسپورٹ ڈائریکٹوریٹ پہلے پاکستان اور بیرون ممالک میں روزانہ کم و بیش 20 ہزار پاسپورٹ بناتا تھا لیکن گزشتہ سال سے یہ تعداد بڑھ کر 30 ہزار روزانہ تک پہنچ گئی ہے ۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کی ایک رپورٹ کے مطابق روزانہ بڑی تعداد میں نوجوان پاسپورٹ کے حصول کے لئے درخواستیں جمع کرارہے ہیں ۔

پاسپورٹ بنوانے والوں میں زیادہ تر نوجوان ہوتے ہیں ۔اعداد و شمار کے مطابق صرف 2022ء میں سات لاکھ 65 ہزار لوگ پاکستان چھوڑ کر دیگر ممالک میں چلے گئے ہیں ۔ ان میں ڈاکٹرز، انجینئرز اور آئی ٹی ماہرین کی بہت بڑی تعداد شامل تھی ۔یاد رہے کہ سن 2021ء میں پاکستان چھوڑنے والوں کی

تعداد 225000 تھی جبکہ 2020ء میں امیگرینٹس کی تعداد 288000 تھی ۔ 2019ء میں سوا چھ لاکھ پاکستانی باہر گئے ۔اس سے پہلے2018ء میں تین لاکھ 82 ہزار ، 2017ء میں چار لاکھ 96 ہزار ، 2016ء میں آٹھ لاکھ 39ہزار ، 2015ء میں نو لاکھ 46ہزار ، 2014ء میں سات لاکھ 52ہزار ، 2013ء میں چھ لاکھ 22 ہزار ، 2012ء میں چھ لاکھ 38ہزار ، 2011ء میں چار لاکھ 56ہزار ، 2010ء میں

تین لاکھ 62ہزار اور 2009ء میں چار لاکھ سے کچھ زیادہ پاکستانی بہ سلسلہ روزگار بیرون ملک گئے ۔’بیورو آف امیگریشن‘ کے مطابق پاکستان چھوڑ کر بیرون ملک جانے والوں کی زیادہ تر تعداد مشرق وسطیٰ کے ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات منتقل ہو گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…