جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

2018 کے انتخابات سے قبل جب حامد میر نے جنرل باجوہ کا پیغام شہبازشریف کو پہنچانے سے انکار کیا تو انہوں نے کیا دھمکی دی ؟سینئر صحافی کا تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 23  مارچ‬‮  2023 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئرصحافی حامد میر اپنے آج کے کالم میں انکشاف کرتے ہیں کہ یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ جنرل باجوہ مجھ سے کیوں ناراض ہوئے اور انہوں نے مجھے راہ راست پرلانے کے لئے توہین رسالتؐ کے الزام کا استعمال کیوں کیا ؟ جنرل باجوہ کو میں اس زمانے سے جانتا ہوں جب وہ بریگیڈیئر تھے ۔

انہوں نے آرمی چیف بننے کے بعد رات دیر گئے تک ملاقاتیں شروع کیں تو میں تاڑ گیا کہ یہ کچھ سیاست دانوں کو سمجھانے بجھانے کیلئے ایک بیک چینل کھول رہے ہیں ۔2018ء کے انتخابات سے قبل ایک رات انہوں نے مجھے کہا کہ ہم شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانا چاہتے ہیں انہیں بتا دیں کہ نواز شریف کو چھوڑنا ہو گا۔میں نے لیت ولعل سے کام لیا تو دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ پھر مجھے مارشل لاء لگانا پڑے گا اور کم از کم پانچ ہزار افراد کو الٹا لٹکا دوں گا۔اگلے دن میں لاہور پہنچا اور شہباز شریف سے عرض کیا کہ آپ کو کسی بھی قیمت پر نوازشریف کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہیے۔ شہباز صاحب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور انہوں نے مجھے گلے لگا کر کہا کہ میں یہ الفاظ سننے کو تڑپ رہا تھا۔پھر انہوں نے باجوہ اور ان کے دو ساتھیوں کے سامنے بیٹھ کر خود ہی وزیر اعظم بننے سے انکار کر دیا۔ایک رات باجوہ نے مجھے آرمی ہائوس بلایا تو وہاں سلیم صافی اور ارشاد بھٹی بھی موجود تھے، فرمایا عمران خان کو کہیں کہ نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے جنرل جیلانی کا ذکر نہ کیا کریں۔ میں نے بڑے ادب سے کہا کہ یہ میرا کام نہیں باجوہ نے بہت اصرار کیا لیکن میں نے یہ پیغام نہیں پہنچایا جس پر ناراض ہوگئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…