جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

ملک میں مہنگائی ریکارڈ 45 فیصد تک پہنچ گئی

datetime 16  مارچ‬‮  2023 |

اسلام آباد(آئی این پی ) پاکستان میں اشیائے خوردونوش کی مہنگائی فروری میں ریکارڈ 45 فیصد تک پہنچ گئی ، تباہ کن سیلاب، یوکرین کا بحران، اور کرنسی کی قدر میں کمی اس کے معاون عوامل ثابت ہوئے۔ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت میں اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر انجم بیگ نے ویلتھ پاک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چینی پالیسیاں پاکستان کو اس رجحان کو

کم کرنے کا ایک حل پیش کرتی ہیں۔ شماریات کے بیورو کے مطابق، کنزیومر پرائس انڈیکس سی پی آئی 31.5 فیصد ہے۔ پاکستان میں اشیائے خوردونوش کی مہنگائی فروری میں 45.1 فیصد تک پہنچ گئی جو اس سال جنوری میں 42.9 فیصد تھی۔ اوپر کا رجحان غریب اور کم متوسط آمدنی والے گروہوں میں تناو کا باعث بن رہا ہے۔اس کے برعکس فروری 2023 میں چین میں خوراک کی افراط زر 2.6 فیصد رہی جو پچھلے مہینے میں 6.2 فیصد تھی۔زرعی سامان گندم اور سبزیوں کے رواں سال متوقع پیداوار تک پہنچنے کا امکان کم ہے کیونکہ پنجاب اور سندھ کے صوبوں میں اس سال 50 فیصد کم گندم کی پیداوار متوقع ہے۔بیگ نے کہا کہ چین نے مختلف پالیسیوں کے ذریعے اپنے زرعی شعبے کو فروغ دیا۔ چینی حکومت فارم لینڈ ریڈ لائننگ کے ذریعے زرعی زمین کو تیزی سے شہری کاری سے بچا رہی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی زرعی زمین کو خطے میں کہیں اور نئی کھیتی باڑی بنا کر معاوضہ دیا جاتا ہے۔

تیز رفتار شہری کاری کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے پاکستان کے لیے بھی ایسی ہی پالیسیوں کا مشورہ دیا۔انہوں نے کہا کہ چین میں چھوٹے کسانوں کو خوراک کی پیداوار کو ترغیب دینے کے لیے بلاسود قرضے فراہم کیے جاتے ہیں۔ ای کامرس کی سہولت کسانوں کو ملک میں زرعی سپلائرز سے بھی جوڑ رہی ہے۔پرائیویٹ سیکٹر ان کسانوں کے ساتھ تعاون کرتا ہے جن کے پاس چھوٹی زمینیں ہیں۔

کسان بدلے میںمزید ویلیو ایڈیشن کے لیے نجی شعبے کو زرعی خام مال فراہم کرتے ہیں۔ اس نوعیت کے تعاون سے پاکستان کو خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی تاکہ سپلائی سائیڈ افراط زر کو روکا جا سکے، پروفیسر انجم بیگ نے کہاکہ پاکستان کا زرعی شعبہ بھی آہستہ آہستہ بحال ہو رہا ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آوٹ لک 2023″ کے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ربیع سیزن میں گندم کی بوائی 96 فیصد تک پہنچ گئی ہے کیونکہ یہ پاکستان میں 21.94 ملین ایکڑ پر محیط ہے۔پاکستان کے زرعی شعبے میں بہتری ملک میں خوراک کی مروجہ مہنگائی کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ مزید بہتری لانے کے لیے پاکستان کے زرعی شعبے کو چین کے تجربے سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…