جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

ملک میں مہنگائی ریکارڈ 45 فیصد تک پہنچ گئی

datetime 16  مارچ‬‮  2023 |

اسلام آباد(آئی این پی ) پاکستان میں اشیائے خوردونوش کی مہنگائی فروری میں ریکارڈ 45 فیصد تک پہنچ گئی ، تباہ کن سیلاب، یوکرین کا بحران، اور کرنسی کی قدر میں کمی اس کے معاون عوامل ثابت ہوئے۔ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت میں اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر انجم بیگ نے ویلتھ پاک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چینی پالیسیاں پاکستان کو اس رجحان کو

کم کرنے کا ایک حل پیش کرتی ہیں۔ شماریات کے بیورو کے مطابق، کنزیومر پرائس انڈیکس سی پی آئی 31.5 فیصد ہے۔ پاکستان میں اشیائے خوردونوش کی مہنگائی فروری میں 45.1 فیصد تک پہنچ گئی جو اس سال جنوری میں 42.9 فیصد تھی۔ اوپر کا رجحان غریب اور کم متوسط آمدنی والے گروہوں میں تناو کا باعث بن رہا ہے۔اس کے برعکس فروری 2023 میں چین میں خوراک کی افراط زر 2.6 فیصد رہی جو پچھلے مہینے میں 6.2 فیصد تھی۔زرعی سامان گندم اور سبزیوں کے رواں سال متوقع پیداوار تک پہنچنے کا امکان کم ہے کیونکہ پنجاب اور سندھ کے صوبوں میں اس سال 50 فیصد کم گندم کی پیداوار متوقع ہے۔بیگ نے کہا کہ چین نے مختلف پالیسیوں کے ذریعے اپنے زرعی شعبے کو فروغ دیا۔ چینی حکومت فارم لینڈ ریڈ لائننگ کے ذریعے زرعی زمین کو تیزی سے شہری کاری سے بچا رہی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی زرعی زمین کو خطے میں کہیں اور نئی کھیتی باڑی بنا کر معاوضہ دیا جاتا ہے۔

تیز رفتار شہری کاری کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے پاکستان کے لیے بھی ایسی ہی پالیسیوں کا مشورہ دیا۔انہوں نے کہا کہ چین میں چھوٹے کسانوں کو خوراک کی پیداوار کو ترغیب دینے کے لیے بلاسود قرضے فراہم کیے جاتے ہیں۔ ای کامرس کی سہولت کسانوں کو ملک میں زرعی سپلائرز سے بھی جوڑ رہی ہے۔پرائیویٹ سیکٹر ان کسانوں کے ساتھ تعاون کرتا ہے جن کے پاس چھوٹی زمینیں ہیں۔

کسان بدلے میںمزید ویلیو ایڈیشن کے لیے نجی شعبے کو زرعی خام مال فراہم کرتے ہیں۔ اس نوعیت کے تعاون سے پاکستان کو خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی تاکہ سپلائی سائیڈ افراط زر کو روکا جا سکے، پروفیسر انجم بیگ نے کہاکہ پاکستان کا زرعی شعبہ بھی آہستہ آہستہ بحال ہو رہا ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آوٹ لک 2023″ کے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ربیع سیزن میں گندم کی بوائی 96 فیصد تک پہنچ گئی ہے کیونکہ یہ پاکستان میں 21.94 ملین ایکڑ پر محیط ہے۔پاکستان کے زرعی شعبے میں بہتری ملک میں خوراک کی مروجہ مہنگائی کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ مزید بہتری لانے کے لیے پاکستان کے زرعی شعبے کو چین کے تجربے سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…