ایک بارعمران خان نےجنرل باجوہ کو بتایا‘ کسی نے آپ پر جادو کر رکھا ہے‘ جنرل باجوہ نے جواب دیا‘ میں یہ جانتا ہوں مجھ پر کس نے جادو کیا ہے؟ عمران خان نے پوچھا ‘کس نے؟

27  دسمبر‬‮  2022

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی جاوید چوہدری اپنے آج کے کالم میں لکھتے ہیں کہ جنرل قمر جاوید باجوہ فوج میں 42 سال گزار کر ریٹائر ہو چکے ہیں‘ یہ مسلسل چھ سال آرمی چیف رہے‘ ان کا دور اچھا تھا یا برا ‘ اس کا پاکستان اور فوج کو فائدہ ہوا یا نقصان یہ فیصلہ آنے والا وقت کرے گا تاہم یہ حقیقت ہے ان کے چھ سال بہت ہنگامہ خیز تھے‘ ان کے دور میں بین الاقوامی تبدیلیاں

بھی آئیں اور ملک بھی سیاسی‘ معاشرتی اور معاشی اتار چڑھائو کا شکار رہا چناں چہ مستقبل کی سیاسی اور عسکری دونوں قیادتوں کوچین‘ بھارت‘ افغانستان‘ امریکا‘ یو اے ای‘ سعودی عرب اور روس سے ڈیل کرنے کے لیے بار بار جنرل باجوہ سے مشورے کی ضرورت رہے گی کیوں کہ ان تمام ملکوں کے ساتھ تعلقات میں جنرل صاحب نے کام بھی کیا اور ان کی قیادت سے ذاتی تعلقات بھی استوار کیے۔مجھے 22 دسمبر کو جنرل باجوہ کے ساتھ چھ گھنٹے گزارنے کا موقع ملا‘ یہ اپنے ذاتی گھر میں شفٹ ہو چکے ہیں‘ ان کا گھر ان کی بیگم نے خود بنوایا‘ یہ درمیانے سائز کا صاف ستھرا گھر ہے‘ بیگم صاحبہ کو صفائی اور انٹیریئر ڈیکوریشن کا شوق ہے‘ یہ زندگی بھر مختلف جگہوں سے پرانی لیکن سستی چیزیں (Antiques) خریدتی رہیں‘ انہوں نے یہ چیزیں بڑے خوب صورت طریقے سے گھر میں سجا رکھی ہیں‘ گھر میں بے تحاشا صفائی ہے‘ مجھے صفائی کا یہ معیار بہت کم گھروں میں دیکھنے کا اتفاق ہوا‘ بیگم صاحبہ بہت سادہ‘ مہمان نواز اور عاجز ہیں‘ جنرل صاحب ان کے عشق میں مبتلا ہیں‘ یہ اپنی ہر گفتگو‘ اپنی ہر محفل میں اپنی بیگم کا ذکر ضرور کرتے ہیں‘ ایک بار سابق وزیراعظم عمران خان نے خاتون اول بشریٰ بیگم کے حوالے سے انہیں بتایا‘ کسی نے آپ پر جادو کر رکھا ہے‘ جنرل صاحب نے ہنس کر جواب دیا‘ یہ بات سچ ہے اور میں یہ بھی جانتا ہوں مجھ پر کس نے جادو کیا ہے؟ عمران خان نے پوچھا ‘کس نے؟ جنرل صاحب کا جواب تھا مجھ پر میری بیگم نے جادو کر رکھا ہے‘ ان کی شادی کو 34 سال ہو چکے ہیں‘ ان کا اے سی کا ٹمپریچر کم اور زیادہ کرنے پر روزانہ جھگڑا ہوتا ہے لیکن بیگم صاحبہ نے جنرل صاحب کی حیاء اور کردار پر ایک بار بھی شک نہیں کیا‘

یہ پوری زندگی سامنے موجود خاتون کو بہن‘ بیٹی اور ماں کہتے اور سمجھتے رہے اور بیگم صاحبہ ان کے اس رویے کی معترف ہیں‘ ان کے دونوں بیٹے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں‘ بیگم صاحبہ کو والد کی طرف سے جو کچھ ملا وہ انہوں نے بیٹوں کی تعلیم پر خرچ کر دیا‘ ان کے ایک سمدھی صابر مٹھو لاہور میں پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ ہیں‘ یہ امیر ہیں لیکن زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں‘

لوگوں کو یہ رشتہ بے جوڑ محسوس ہوتا تھا لیکن اصل حقیقت یہ ہے صابر مٹھو خود زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں مگر انہوں نے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی‘ جنرل صاحب کی بہو ماہ نور برکلے (Berkeley) کی گریجویٹ ہیں اور یہ وہ ادارہ ہے جس میں ذوالفقار علی بھٹو پڑھتے رہے‘ اس رشتے کی ابتدائی بات چیت اس وقت شروع ہوئی تھی جب جنرل قمر جاوید باجوہ میجر جنرل تھے اور اس وقت دور دور تک ان کے

آرمی چیف بننے کا کوئی امکان نہیں تھا‘ ماہ نور صابر ابتدائی بات چیت کے بعد تعلیم کے لیے باہر چلی گئیں‘یہ واپس آئیں تو شادی ہو گئی‘ جنرل باجوہ اپنے اثاثوں سے متعلق خبر پر دکھی ہیں‘ یہ جانتے ہیں ایف بی آر کے اہلکاروں نے 20 لاکھ روپے لے کر 50 لوگوں کا ڈیٹا لیک کیا اور رپورٹر نے صابر مٹھو کے اثاثے ان کے کھاتے میں ڈال کر انہیں بدنام کر دیا‘

یہ اب اپنے اثاثوں کا فارنزک آڈٹ کرا رہے ہیں‘ 1980ء سے جب ان کی تنخواہ ساڑھے 14 سو روپے تھی اور یہ جب 29 نومبر 2022ء کو ریٹائر ہوئے ‘یہ اپنے 42 سال کے ایک ایک پیسے کا حساب دیں گے اور پھر فارنزک رپورٹ پبلک کر دیں گے‘ یہ اپنے والد اور اپنی والدہ سے عقیدت کی حد تک محبت کرتے ہیں‘ ان کے والد محمد اقبال باجوہ فوج میں کرنل تھے‘ وہ 1967ء میں کوئٹہ میں اپنے دفتر میں ہارٹ اٹیک سے انتقال کر گئے‘

جنرل صاحب اس وقت سات سال کے بچے تھے‘ ان کی والدہ نے اپنے پانچ بچوں کی پرورش بڑی توجہ اور محنت سے کی‘ جنرل صاحب نے اپنے والد کی آخری دن کی یونیفارم فریم کرا کر اپنی سٹڈی میں لگا رکھی ہے جب کہ والدہ کا دیا ہوا پنج سورۃ پوری زندگی ان کی جیب میں رہا‘ گھر میں جگہ جگہ والد اور والدہ کی تصویریں لگی ہیں‘ یہ اپنے سسر جنرل اعجاز امجد کا بھی بڑی محبت سے ذکر کرتے ہیں۔

یہ چائے بہت اچھی پیتے ہیں‘ کپ میں کیک رس ڈبو کر کھاتے ہیں اور اپنی اس سادگی کو انجوائے کرتے ہیں‘ یہ ہنس کر بتاتے ہیں میاں نواز شریف کا ایک خان ساماں چائے بہت اچھی بناتا تھا‘ وہ میاں صاحب کے ساتھ چلا گیا‘ اس کے بعد وزیراعظم ہائوس کی چائے اچھی نہیں رہی‘ جنرل صاحب کے پاس کتابوں اور یادوں کا بہت بڑا ذخیرہ ہے‘انہیں تاریخیں یاد نہیں رہتیں لیکن واقعات تمام تر جزئیات کے ساتھ یاد ہیں‘

جنرل فیض حمید اور جنرل باجوہ کے درمیان اختلافات کا تاثر عام ہے جب کہ اصل صورت حال مختلف ہے‘ جنرل فیض حمید ریٹائرمنٹ کے بعد ان سے ملاقات کے لیے بھی آئے اور دونوں اب مل کر ویلفیئر کا کوئی پراجیکٹ بھی بنا رہے ہیں‘ ملک محمد احمد خان ان کے سمدھی صابر مٹھو کے دوست ہیں اور ان کے ذریعے ان سے ان کا رابطہ رہا لیکن ان ملاقاتوں کے دوران کبھی ملک محمد احمد خان نے عمران خان کے خلاف بات کی

اور نہ جنرل صاحب نے انہیں کرنے دی‘ محمد زبیر جنرل باجوہ کے ماموں زاد انجم وڑائچ کے دوست اور کلاس فیلو ہیں‘ یہ انجم وڑائچ کے ریفرنس سے انہیں ملتے تھے‘ علیم خان کے سسر راجہ محمد صابر(مرحوم) ان کے سسر جنرل اعجاز امجد کے دوست تھے اور اس تعلق سے ان کی علیم خان سے تین ملاقاتیں ہوئیں‘ جہانگیر ترین عمران خان کو لے کر پہلی بار ان کے گھر آئے تھے‘

یہ عمران خان کی چند خوبیوں کے آج بھی معترف ہیں تاہم یہ بار بار ذکر کرتے ہیں نواز شریف نے انہیں ہمیشہ عزت دی‘ ان کی میاں نواز شریف سے 2017ء کے بعد صرف ایک بار ٹیلی فون پر بات ہوئی اور وہ بھی انہوں نے بیگم کلثوم کے انتقال پر تعزیت کے لیے میاں صاحب کو فون کیا تھا‘ یہ عمران خان کی کابینہ کے چند وزراء کی کارکردگی اور محنت کی تعریف کرتے ہیں بالخصوص یہ حفیظ شیخ کی اپروچ کو یاد کرتے ہیں‘

فروغ نسیم کی بھی تعریف کرتے ہیں‘ عثمان بزدار اور شہزاد اکبر کو عمران خان کی ناکامی کی بڑی وجہ قرار دیتے ہیں‘ یہ دنیا سے ساڑھے تیرہ ارب ڈالر پاکستان لے کر آئے تھے‘ فیٹف‘ ریکوڈک اور افغانستان‘ چین‘ سعودی عرب‘ یو اے ای‘ قطر اور امریکا کے ساتھ سفارت کاری ان کے اہم کام ہیں‘

مجھے محسوس ہوا فوج کو نیوٹرل کرنا اور سیاست سے باہر لانا ان کا مشکل ترین کام تھا اور یہ اسے درست اپروچ بھی سمجھتے ہیں‘ یہ سمجھتے ہیں ملک صرف جمہوریت‘ معاشی استحکام اور ڈائیلاگ سے چل سکتا ہے‘ یہ سمجھتے ہیں سیاست دانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے اپنا بوجھ خود اٹھانا چاہیے تاکہ فوج سیکورٹی پر توجہ دے سکے‘

سیاست فوج کا کام نہیں اور یہ جب بھی سیاست میں آئی ملک کو نقصان ہوا‘ یہ سمجھتے ہیں فوج کو سیاست سے باہر لا کر انہوں نے اپنی قربانی دے دی لیکن فوج کو بچا لیا‘ ان کے لیے بہت آسان تھا یہ عمران خان کو سپورٹ کرتے رہتے‘ اپنی مدت پوری کرتے اور عمران خان سے اپنے حق میں الوداعی تقریر کروا کر رخصت ہو جاتے لیکن یہ ملک اور جمہوریت کے لیے خطرناک تھا چناں چہ انہوں نے اپنی قربانی دے دی۔

مجھے محسوس ہوا یہ ایکسٹینشن کو اپنی بڑی غلطی سمجھتے ہیں اور اس پر انہیں بہت افسوس ہے مگر یہ سچ ہے عمران خان نے ان کو اعتماد میں لیے بغیر یہ فیصلہ کیا تھاتاہم انہیں انکار کر دینا چاہیے تھا لیکن افغانستان‘ بھارت اور داخلی معاملات اس وقت تک اتنے الجھ چکے تھے کہ یہ مجبور ہو گئے مگر یہ اس مجبوری کے باوجود اسے اپنی غلطی سمجھتے ہیں‘ یہ ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان میں رہیں گے‘

یہ کسی دوسرے ملک میں عارضی یا مستقل رہائش اختیار نہیں کریں گے‘مجھے محسوس ہوا یہ میر صادق اور میر جعفر کے خطاب‘ غداری کے ٹائٹل اور سازش کے بیانیے پر اداس ہیں‘ یہ جو کچھ جانتے ہیں یہ اگر اس کا پانچ فیصد بھی بیان کر دیں تو ان کے مخالفوں کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی لیکن یہ جواب نہیں دینا چاہتے‘ یہ اپنے ٹوئن پوتوں کے ساتھ ریٹائر زندگی انجوائے کرنا چاہتے ہیں‘

یہ اپنا کیس اللہ پر چھوڑ چکے ہیں تاہم یہ سمجھتے ہیں ان سے اور فوج دونوں سے ماضی میں بہت غلطیاں ہوئیں‘ ہم نے ان غلطیوں سے سیکھا اور ہمیں اب یہ غلطیاںدہرانی نہیں چاہییں‘ یہ جنرل فیض حمید کی ان تھک محنت کا بھی اعتراف کرتے ہیں‘ یہ بتاتے ہیں یہ شخص اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرتا تھا اور اس کی ملک کے لیے خدمات ناقابل فراموش ہیں‘ یہ جنرل عاصم منیر کی ایمان داری‘

پروفیشنل ازم اور ملک سے محبت کے بھی معترف ہیں‘ ان کا خیال ہے جنرل عاصم عربی زبان جانتے ہیں‘ گلف کے تمام معاملات کواچھی طرح سمجھتے ہیں‘ ان کے شاہی خاندانوں سے بہت اچھے تعلقات ہیں‘ یہ ڈی جی ایم آئی اور ڈی جی آئی ایس آئی رہے ہیں‘

مکمل سولجر ہیں اور ہر قسم کا پریشر برداشت کر لیتے ہیں لہٰذا یہ فوج اور اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے آسانی سے نبٹ لیں گے تاہم ان کو خدشہ ہے کہیں ان کی طرح نئے آرمی چیف کے خلاف بھی ٹرولنگ نہ شروع ہو جائے اور اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو یہ ملک کے لیے انتہائی خطرناک ہو گا‘

یہ گرینڈ ڈائیلاگ اور جمہوریت دونوں کے حامی بھی ہیں اور کھلے دل سے اپنی غلطیوں کا اعتراف بھی کرتے ہیں لیکن اتنے احسانات کے بعد انہیں عمران خان سے اس رویے کی ہرگز توقع نہیں تھی

موضوعات:



کالم



فرح گوگی بھی لے لیں


میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں‘ فرض کریں آپ ایک بڑے…

آئوٹ آف دی باکس

کان پور بھارتی ریاست اترپردیش کا بڑا نڈسٹریل…

ریاست کو کیا کرنا چاہیے؟

عثمانی بادشاہ سلطان سلیمان کے دور میں ایک بار…

ناکارہ اور مفلوج قوم

پروفیسر سٹیوارٹ (Ralph Randles Stewart) باٹنی میں دنیا…

Javed Chaudhry Today's Column
Javed Chaudhry Today's Column
زندگی کا کھویا ہوا سرا

Read Javed Chaudhry Today’s Column Zero Point ڈاکٹر ہرمن بورہیو…

عمران خان
عمران خان
ضد کے شکار عمران خان

’’ہمارا عمران خان جیت گیا‘ فوج کو اس کے مقابلے…

بھکاریوں کو کیسے بحال کیا جائے؟

’’آپ جاوید چودھری ہیں‘‘ اس نے بڑے جوش سے پوچھا‘…

تعلیم یافتہ لوگ کام یاب کیوں نہیں ہوتے؟

نوجوان انتہائی پڑھا لکھا تھا‘ ہر کلاس میں اول…

کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

فواد حسن فواد پاکستان کے نامور بیوروکریٹ ہیں‘…

گوہر اعجاز سے سیکھیں

پنجاب حکومت نے وائسرائے کے حکم پر دوسری جنگ عظیم…

میزبان اور مہمان

یہ برسوں پرانی بات ہے‘ میں اسلام آباد میں کسی…