ہفتہ‬‮ ، 20 جون‬‮ 2026 

جنرل قمر جاوید باجوہ کے دل میں 5 ہزار افراد کو لٹکانے کی ایک خواہش اکثر انگڑائیاں لیتی تھی حامد میر کا حیران کن انکشاف

datetime 8  دسمبر‬‮  2022 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی اور کالم نگار حامد میر اپنے آج کے کالم میں لکھتے ہیں کہ آج کل کچھ سیاستدانوں کے بیانات ہمیں بار بار میر تقی میر کی یاد دلاتے ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما جناب فواد چودھری نے فرمایا ہے کہ عمران خان نے پاکستان کو مارشل لاءسے بچا لیا۔ دلیل یہ دی کہ اگر عمران خان صدر عارف علوی کو نئے آرمی چیف کی تقرری کے نوٹیفیکیشن پر

دستخط سے روک دیتے تو ملک میں مارشل لاءلگ جاتا ۔فواد چودھری نے جو بھی کہا وہ انتہائی قابل غور ہے کیونکہ آرمی چیف کی تقرری کا معاملہ غیر معمولی تاخیر کا شکار ہو رہا تھا۔کوئی مانے یا نہ مانے لیکن ایک طرف جنرل قمر جاوید باجوہ دوسری مرتبہ ایکسٹینشن کیلئے سرگرم تھے ، دوسری طرف ایک صاحب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو یہ یقین دلا رہے تھے کہ اگر انہیں آرمی چیف بنا دیا گیا تو وہ عمران خان کو نیست ونابود کر دیں گےاور ان کا ’’فیض‘‘ غیر مشروط ہوگا۔نجانے باجوہ اور فیض مل کر کھیل رہے تھے یا ایک دوسرے کو دھوکہ دے رہے تھے لیکن یہ طے ہے کہ جی ایچ کیو سے وزارت دفاع کو آرمی چیف کیلئے نام بھجوانے کی سمری میں تاخیر بہت سوچ سمجھ کر کی گئی۔آخر میں جب سمری بھیج دی گئی تو خیال تھا کہ اگر وزیر اعظم شہباز شریف نے جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف بنانے کا فیصلہ کیا تو عمران خان صدر عارف علوی کو اس فیصلے کی تصدیق سے روک دیں گے ۔ایک نیا بحران پیدا ہو جائے گا اور مار شل لاء کے حالات پیدا ہو جائیں گے ۔

فواد چودھری برا نہ منائیں تو عرض ہے کہ جب وزیر اعظم آفس نے سمری صدر عارف علوی کو بھجوائی تو ہماری اطلاع کے مطابق انہوں نے اس پر دستخط کر دیئے ۔دستخط کرنے کے بعد وہ وزیر اعظم کے ہوائی جہاز پر لاہور گئے اور عمران خان سے ملاقات کی ۔خان صاحب سمری پر دستخط سے روکتے بھی تو کوئی فائدہ نہ ہوتا لیکن خان صاحب کو بھی مارشل لاء کے خطرے کا احساس تھا۔

انہوں نے صدر کو دستخط سے نہیں روکا اور یوں مار شل لاء کا خطرہ ٹل گیا۔مارشل لاء کس نے لگانا تھا؟ ظاہر ہے جنرل باجوہ نے لگانا تھا جن کی زبان سے میں نے مارشل لاء کی بات ایک د فعہ نہیں بار بار سنی۔ان کے دل کے کسی گوشے میں پانچ ہزار افراد کو لٹکانے کی ایک خواہش اکثر انگڑائیاں لیتی تھی۔یہ خواہش ان کی زبان پر تڑپتی لیکن پھر واپس دل میں جا کر سوجاتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…