پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

گوجرانوالہ میں شوہر کو باندھ کر خاتون سے اجتماعی زیادتی

datetime 8  اکتوبر‬‮  2022 |

کراچی، گوجرانوالہ(مانیٹرنگ ڈیسک ،این این آئی)گوجرانوالہ میں شوہر کو باندھ کر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے تین ملزمان  گرفتار۔نجی ٹی وی کے مطابق گوجرانوالہ کے تھانہ صدر کامونکی میں تین ملزمان نے شوہر کو باندھ کر اُس کے سامنے 45 سالہ بیوی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔متاثرہ خاتون اور شوہر نے واقعے سے متعلق تھانہ صدر کامونکی میں درخواست دائر کی جس پر

پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تین ملزمان کو حراست میں لے لیا۔پولیس حکام کے مطابق خاتون کے میڈیکل ٹیسٹ کی رپورٹ آنے کے بعد گرفتار افراد کے خلاف مزید کارروائی کی جائے گی۔دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ نے مٹھی تھر پارکر میں لڑکی کے اغوا، اجتماعی زیادتی اور خودکشی سے متعلق کیس میں ڈی این اے کرانے کی ہدایت کردی۔سندھ ہائیکورٹ میں مٹھی تھر پارکر میں لڑکی کے اغوا، اجتماعی ذیادتی اور خود کشی کے نوٹس کی سماعت ہوئی۔ ڈی آئی جی میر پور خاص ذوالفقار مہر اور ایس ایس پی تھرپار کار حسن سردار اور دیگر پیش ہوئے۔متوفیہ کے اہلخانہ نے عدالت کو واقعہ کی تفصیل سے آگاہ کیا۔ ڈی آئی جی میر پور خاص کی جانب سے پیش رفت رپورٹ پیش کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ مقدمے میں 4 ملزمان گرفتار ہیںمقدمے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ احمد علی شیخ نے کیس میں ڈی این اے کرانے کی ہدایت کردی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مدعی مقدمہ اور ان کے اہلخانہ کے ساتھ تعاون کیا جائے۔

مقدمے کی مزید تفتیش کرکے 2 ہفتوں میں پیش رفت رپورٹ جمع کرائی جائے۔چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے واقعے کا نوٹس لیا تھا۔سماعت کے بعدڈی آئی جی میرپورخاص نے عدالت کے باہرمیڈیا کے نمائندوں سے غیررسمی گفتگو میں کہا کہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کیس کے مدعی اور گواہ کو تفصیل سے سنا ہے۔ چیف جسٹس نے تمام شواہد اور ڈی این اے کی بنیاد پر میرٹ پر تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

ڈی آئی جی سے صحافی نے سوال کیا کہ واقعہ 8 تاریخ کو ہوا مقدمہ 18 ستمبردرج کیا گیا، وقت پر پولیس ایکشن لیتی تو بچی کی جان بچ جاتی؟ جس پرڈی آئی جی نے جواب دیا کہ مدعی اور گواہ نے چیف جسٹس کے سامنے اس معاملے کو کلیئرکیا ہے کہ ہم نے ہی کوئی چیز نہیں بتائی تھی۔ڈی آئی جی نے کہاکہ مدعی اور گواہ نے کہا ہے کہ ہم نے جب پولیس کو رپورٹ کیا ہے تو انہوں نے کارروائی کی ہے۔ مدعی اورگواہ پولیس کی تفتیش سے مطمئن ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…